فرمایا: ایسا نہیں ہے کہ میں ہر وقت دودھ دوھ کر پیتا رہوں(یعنی میں ہر وقت ہی حدیث بیان نہیں کرتا)۔
مصیبت بھی آسانی لگے:
(5726)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن مَرْدَوَیْہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: عرفہ کے دن میں حضرتِ سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ اور حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے ساتھ ابن عامر کے کھجوروں کے باغ میں تھا۔حضرتِ سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا: اے ابو عبداللہ! کتناعرصہ ہو گیا حجاج سے آپ چھپتے پھر رہے ہیں؟انہوں نے فرمایا: جب میں اپنی زوجہ کے پاس سے آیا تھا تو وہ حاملہ تھی حتّٰی کہ وہ پیٹ والا جب میرے پاس آیا تو اس کی داڑھی نکل چکی تھی۔حضرتِ سیِّدُنا وہب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:آپ سے پہلے جو لوگ تھے انہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی تو اسے آسانی شمار کرتے اور جب کوئی آسانی پہنچتی تو اسے مصیبت گردانتے تھے۔
حجاج بن یوسف کا ظلم:
(5727)…حضرتِ سیِّدُناسالم بن ابو حفصہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :جب حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو حجاج کے پاس لایا گیا تو حجاج نے کہا: تو شَقِی بن کُسِیر ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں سعید بن جبیر ہوں۔حجاج نے کہا : میں ضرور تجھے قتل کروں گا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : پھر تو ویسا ہی ہے جیسا میری ماں نے مجھے بتایا تھا۔پھر فرمایا : مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو۔ حجاج نے کہا: اسے نصارٰی کے قبلہ کی طرف پھیر دو۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: تو تم جدھر منہ کرو ادھر وَجْہُ اللہ(خدا کی رحمت متوجہ ہے) پھر فرمایا: میں تجھ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں جیسا کہ حضرتِ سیِّدَتُنا مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے پناہ مانگی۔ حجاج نے کہا :مریم نے کیا پناہ مانگی؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: حضرتِ سیِّدَتُنا مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نےکہاتھا:میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔
حضرتِ سیِّدُنا سفیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حجاج نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بعد صرف ایک ہی شخص کو قتل کرسکا۔