سٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾ (پ۲۹، القلم:۴۳)
جاتے تھے جب تندرست تھے۔
اس سے مراد جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
(5701)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہودیوں نے حضرتِ سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام سے کہا: آپ کا ربّ مخلوق کو پیدا فرماتا ہے تو پھر کیا ان کو عذاب بھی دے گا؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناموسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی: اے موسٰی!کھیتی باڑی کرو۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: میں نے کھیتی باڑی کر لی۔ حکم ہوا: اسے کاٹو۔ عرض کی: کاٹ لی۔ حکم ہوا: دانا اور بُھوسا الگ کرو۔ عرض کی: کر لیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: دانے صاف کرو۔ عرض کی: کر لئے۔ ارشاد ہوا: کیا باقی رہا؟ عرض کی: جس میں بھلائی نہ تھی وہ باقی نہ رہی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: اسی طرح میں بھی اپنی مخلوق میں سے صرف اسے عذاب دوں گا جس میں بھلائی نہ ہو گی۔
(5702)… وَ قَرَّبْنٰہُ نَجِیًّا ﴿۵۲﴾ (پ۱۶، مریم:۵۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا۔
حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے حضرتِ سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے پیچھے بیٹھایا حتّٰی آپ کے قلم کے چلنے کی آواز سنی اس وقت آپ کے لئے تورات لکھی جا رہی تھی۔
سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کا پہلا کام:
(5703)… حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تخلیق فرمایا تو ان کےجسم سے پہلے سر مبارک میں روح پھونکی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چھینک ماری اور کہا: اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ خَلَقَنِيْیعنی تمام تعریفیں میرے مالک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جس نے مجھے پیدا کیا۔تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:”يَرْحَمُكَ اللهُ“ یعنی اللہتجھ پر رحم فرمائے۔
(5704)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرتِ سیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَام میں روح پھونکی تو وہ ابھی پاؤں میں بھی نہیں پہنچی تھی کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو کھانے کی خواہش