یہ آیت حضرتِ سیِّدُنا وَحْشیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور ان کے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تو انہوں نے کہا: ہمارے لئے توبہ کس طرح ہو سکتی ہے، ہم نے تو بتوں کی پوجا کی، مؤمنین کو قتل کیا اور مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح کیا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍؕ (پ۱۹،الفرقان:۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان: مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہبھلائیوں سے بدل دے گا۔
لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی بتوں کی عبادت کرنے کو اپنی عبادت سے، مسلمانوں کے قتل کو مشرکین کے قتل سے اور مشرک عورتوں سے نکاح کو مومن عورتوں سے نکاح کرنے میں بدل دیا۔
ایک ہزار سال ایک ہی پکار:
(5696)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ جہنم کی گھاٹیوں میں سے ایک شخص ایک ہزار سال تک پکارے گا: یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ یعنی اے بہت مہربان بہت احسان فرمانے والے۔اللہ ربُّ العزت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سےفرمائے گا:اے جبریل ! میرے بندے کو جہنم سے نکال لاؤ، حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اس گھاٹی پر آئیں گے تو اسے بند پائیں گے، واپس لوٹیں گے اور عرض کریں گے: اے میرے ربّ! وہ ان پر بند کر دی گئی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: اے جبریل! جاؤ اسے کھولو اور میرے بندے کو نکال لاؤ۔ حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام جائیں گے اور اس گھاٹی کو کھول کر اسے نکالیں گے وہ کوئلہ بن چکا ہو گاآپ اسے جنت کے کنارے ڈال دیں گے حتّٰی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بال، اس کا گوشت اور خون دوبارہ لوٹا دے گا۔
دوزخیوں کا کھانا پینا:
(5697)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب دوزخیوں کو بھوک لگےگی اور حضرتِ سیِّدُنا ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جب دوزخیوں کو سال گزر جائے گا تو مدد طلب کریں گے چنانچہ زَقُّوْم (تھوہڑ)کے درخت سے ان کی مدد کی جائے گی جس کو وہ کھائیں گے تو ان کے چہروں کی کھالیں