” الْاَیۡدِیۡ “سے کام میں قوت اور ” الْاَبْصَارِ “سے معاملات میں بصیریت مراد ہے۔
(5691)… لَّا یُصَدَّعُوۡنَ عَنْہَا وَلَا یُنۡزِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾ (پ۲۷،الواقعة:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اس سے نہ اُنہیں درد سر ہو نہ ہوش میں فرق آئے۔
یعنی نہ ان کے سروں میں درد ہو گا نہ ان کی عقلیں زائل ہوں گی۔
(5692)… وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَجِلَۃٌ (پ۱۸،المؤمنون:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور اُن کے دل ڈر رہے ہیں۔
یعنی جو نیک اعمال کر سکتے ہیں کرتے ہیں ساتھ ہی ان کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حضور کھڑا ہونے اور حساب دینے سے بھی ڈرتے رہتے ہیں۔
(5693)… وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمْ ؕ؎ (پ۲۲،یٰسٓ:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم لکھ رہے ہیں جو اُنہوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے۔
یعنی جو طریقے انہوں نے جاری کئے۔
(5694)… وَّ مَا ہُوَ بِالْہَزْلِ ﴿ؕ۱۴﴾ (پ۳۰،الطارق:۱۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور کوئی ہنسی کی بات نہیں۔
اس سے مراد کھیل ہے(یعنی قرآن پاک کوئی کھیل کی بات نہیں)۔
اسلام سابقہ گناہوں کا کفارہ ہے:
(5695)… وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ (پ۱۹،الفرقان:۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اللہکے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔