کھیتی باڑی کرتے اور فرماتے: یہ وہی ہے جس کا میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ’’تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔‘‘
(5680)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھ سے علم لے لیں اس لئے کہ میرے نزدیک وہ بہت اہم ہے۔
استاد کی محبت:
(5681)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے حدیث سنتا تھا اگر وہ مجھے اجازت دیتے تو میں ضرور ان کی پیشانی کو بوسہ دے دیتا۔
(5682)…حضرتِ سعیدبن جبیررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرتِ آدمعَلَیْہِ السَّلَامکی عُمْرایک ہزارسال تھی، انہوں نے40سال حضرتِ سیِّدُناداؤد عَلَیْہِ السَّلَام کو دے دیے اس وقت قلم تر تھے اور چل رہے تھے۔
حج کا حکم:
(5683)… حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب حضرتِ سیِّدُناابراہیمعَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا گیا کہ لوگوں کو حج کا فرمائیں تو آپ نے فرمایا:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کا حج کرو۔ تو عمارت میں سے ہر شے نے اسے قبول کیا خواہ وہ پتھر ہو،لکڑی ہو یا مٹی ہو۔
ابن آدم کی قربانی:
(5684)…حضرتِ سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتےہیں:جومینڈھاحضرتِ اسحاقعَلَیْہِ السَّلَام کا فدیہ بنا(1) یہ وہی تھا جوحضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلَامکے بیٹے (سیِّدُنا ہابیل)نے قربان کیا تھا اور ان کی یہ قربانی قبول ہوئی تھی۔
(5685)… حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو مینڈھا حضرتِ سیِّدُنا اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی جگہ قربان کیا گیا وہ جنت میں چرتا تھا اور اس پر سرخ اون تھی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس میں اختلاف ہےکہ قربانی کس کی ہوئی تھی حضرتِ اسحاقعَلَیْہِ السَّلَامکی یاحضرتِ اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَامکی،جمہوراہْلِ اسلام کےنزدیک قربانی کاواقعہ حضرتِ اسماعیلعَلَیْہِ السَّلَامہی سےمتعلق ہےنہ کہ حضرتِ اسحاقعَلَیْہِ السَّلَامسے۔
تفصیلی معلومات کےلئے’’فتاوٰی فیضُ الرسول،جلد1،صفحہ32تا38‘‘ کامطالعہ کیجئے۔