Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
352 - 475
 اگر باپ ماں سے بہتر ہو گا تو باپ کے ساتھ ہونگے اور اگر ماں باپ سے بہتر ہو گی تو ماں  کے ساتھ ہوں گے۔ 
حکایت:قحط سالی دور ہوگئی
(5677)… حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ کے زمانے میں لوگ تین سال  تک قحط میں مبتلا رہے۔ بادشاہ نے کہا : یا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بارش عطا فرمائے گا یا ہم اسے اذیت دیں گے(1)۔لوگوں نے کہا : آپ کے لئے ایسا کیونکر ممکن ہے کہ آپ اسے تکلیف دیں اس کی قدرت تو آسمانوں کو محیط ہے  اور آپ زمین پر ہیں؟ بادشاہ نے کہا: میں زمین پر موجود  اس کے اولیا کو قتل کردوں گااور یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے باعث اَذِیَّت ہے۔ چنانچہ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں بارش عطا فرما دی۔
سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامکا واقعہ:
(5678)… حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے ایک سرخ بیل اتارا گیا ۔آپ اس  کے ساتھ ہل چلاتے اور اپنی پیشانی سے پسینا صاف کرتے ہوئے  خود سےفرماتے: تیرے ربّ نے تجھے فرمایا بھی تھا:  فَلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰی ﴿۱۱۷﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۱۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔
	 حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں۔ وہ مشقت یہی ہل چلانا  ہے۔
(5679)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب حضرتِ سیِّدُناآدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  ایک بیل کے ساتھ کام کرتے اور اپنی مبارک پیشانی سےپسینا صاف کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدَتُنا حوّاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرماتے:  یہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔ پس آپ عَلَیْہِ السَّلَامکی اولاد میں جو بھی ہل چلاتا وہ یہی کہتا کہ اس میں حضرتِ سیِّدُناآدم کی جانب سے حضرت حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا عمل دخل ہے۔ جب حضرتِ سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَامکو زمین پر اتارا گیا تو آپ کی طرف ایک چتکَبْرا بیل بھیجا گیا جس کے ذریعے آپ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بادشاہ کا یہ قول لوگوں کو کامل  توجہ کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا ۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو اپنی تمام تر توجہ کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس نے ان کی دعا قبول فرما لی۔(اتحاف السادة المتقین ۵/۲۶۳)