موت کی یاد:
(5661)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اگر موت کی یادمیرے دل سے جدا ہو جائے تو مجھےاپنے دل کے خراب ہو جانے کا خوف ہے۔
(5662)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:دنیا آخرت کے جمعوں میں سے ایک جمعہ ہے۔
وعظ و نصیحت کرنے والے:
(5663)…حضرتِ سیِّدُناہلال بن خباب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں: ہم حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ایک جنازے میں گئے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ راستے میں ہمیں حدیثیں سناتے رہے اور نصیحت کرتے رہےحتّٰی کہ ہم وہاں پہنچ کر بیٹھ گئے، آپ حدیثیں سناتے ہی رہے حتّٰی کہ ہم وہاں سے کھڑے ہو گئے اور واپس لوٹ آئے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کثرت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والے تھے۔
(5664)… حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مجھے ایک راہب ملا اور کہنے لگا: اے سعید!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عبادت گزاروں کو فتنے کے وقت شیطان کے پجاریوں سے الگ کر دیا جائے گا۔
مکتوب میں نصیحت:
(5665)… حضرتِ سیِّدُناعمر بن ذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میرے والد کو ایک مکتوب بھیجا جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی نصیحت تھی اور لکھا تھا: اے ابو عمر ! مسلمان کی زندگی کا ہر دن غنیمت ہے۔اس کے علاوہ نمازوں اور دیگر فرائض کے ساتھ ساتھ جس بات کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے توفیق دی اس کی بھی نصیحت فرمائی ۔
رات کی عبادت:
(5666)…حضرتِ سیِّدُنا ابو شہاب موسٰی بن نافِع کوفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بتایا کہ میں نے کوفہ میں ایسے لوگوں کودیکھا ہے جو رات کو نہ جاگ سکنے کے