انبیائے کرامعَلَیْہِم السَّلَام کے سامنے بھیجتا تھاچنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف ملک الموت کو بھیجا تا کہ ان کی روح قَبْض کریں۔ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے گھر میں ایک خوبصورت نوجوان کی صورت میں داخل ہوئے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامایک غَیُّور شخص تھے۔ جب ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام گھر میں داخل ہوئے توآپ کی غیرت نے جوش مارا اور فرمایا:اللہ کے بندے !تجھے میرے گھر میں کس نے داخل کیا ہے؟ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : گھر کے مالک نے۔ آپعَلَیْہِ السَّلَام معاملہ سمجھ گئے۔ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: اے ابراہیم(عَلَیْہِ السَّلَام)! مجھے آپ کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیاہے۔آپ نے ارشاد فرمایا: اے ملک الموت! جب تک اسحاق نہیں آجاتے مجھے مہلت دو۔ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَامنے مہلت دے دی۔ جب حضرتِ سیِّدُنا اسحاقعَلَیْہِ السَّلَام گھر میں داخل ہوئے تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کھڑے ہوئے ان سےگلےملے۔ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَامکو رحم آیا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تیرا خلیل موت سے گھبرا گیا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: اے ملک الموت! جب میرا خلیل سو رہا ہو تب اس کے پاس جانا اور قبض کرنا لہٰذا جب حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامآرام فرما رہے تھے اس وقت ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام آئے اور ان کی روح قبض کر لی۔
(5657)… حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن ضرور رحم فرمائے گا حتّٰی کہ فرمائے گا: جو بھی مسلمان ہے وہ جنت میں داخل ہو جائے۔
بڑا عبادت گزار:
(5658)… حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا:لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار کون ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ایسا گناہ گار شخص کہ جب جب اپنے گناہوں کو یاد کرے تو اپنے(نیک) عمل کو حقیر سمجھے۔
(60-5659)… حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں اپنے اس بچے کی وجہ سے کثرت سے نماز پڑھتا ہوں۔حضرتِ سیِّدُنا ہِشام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:یہ امید کرتے ہوئے کہ بچہ نماز میں رغبت رکھے۔