Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
347 - 475
مچھلی اورگِدھ:
(5653)… حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:جب حضرتِ سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کو زمین پر اتارا گیا تو اس وقت زمین کی خشکی پر ایک گِدھ اور سمندر میں ایک مچھلی کے علاوہ کوئی نہیں تھا،گدھ مچھلی کے پاس پناہ لیتا تھا اور ہر رات اس کے پاس گزارتا تھا جب اس نے حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا تو مچھلی سے کہا:اے مچھلی!آج زمین پر ایسی چیز اتاری گئی ہے جو دو پاؤں سے چلتی ہے اور دو ہاتھوں سے پکڑتی ہے۔ مچھلی نے کہا : اگر تو سچا ہے تو پھر نہ تو  سمندر میں میرے لئے کوئی پناہ گاہ ہے اورنہ خشکی میں تیرے  لئے بھاگنے کی کوئی جگہ۔
بنی اسرائیل پر عذاب:
(5654)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون کے پاس بیٹھے تھے  کہ مینڈک ٹرّایا، حضرتِ سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:تم لوگوں کو  کیا مصیبت پہنچی؟ وہ بولے:ایسا ہونے کی امید تو نہیں تھی۔ در اصل ان پر مینڈک کا عذاب نازل کیا گیا تھا،ان میں سے جب کوئی شخص کپڑے پہننے لگتا تو وہ مینڈکوں سے بھرا ہوتا اور ان پر خون کا عذاب بھیجا گیا ، جب بھی ان میں سے کوئی شخص  پانی پینے کے لئے نہر یا کنوئیں سے چُلُّو لیتا تو وہ گندا خون ہو جاتا۔تو اس قوم نے کہا: اے موسٰی! اپنے ربّ سے ہمارے لئے دعاکریں کہ ہم سے اس عذاب کو اٹھا دے ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا کی  توان سے عذاب اٹھ گیا لیکن وہ ایمان نہ لائے۔مزید فرماتے ہیں: فرعون اپنی قوم کے ساتھ بہت زیادہ وفادار تھا، اس نے بنی اسرائیل سے کہا: موسٰی (عَلَیْہِ السَّلَام) کے ساتھ چلے جاؤ۔
(5655)…حضرتِ سیِّدُنا یعقوب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:بنی اسرائیل میں سے جب بھی کوئی شخص کلام کرنے لگتا تو مینڈک اس کے منہ میں کود جاتا۔
سیِّدُناابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکا وصال:
(5656)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مَلَکُ المَوتعَلَیْہِ السَّلَام کو