اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھا رہے تھے اور ایک منافق بیٹھا ہوا تھا وہاں سے ایک مسلمان گزرا تو منافق سے کہا: حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھا رہے ہیں اور تو یہاں بیٹھا ہے؟ منافق نے کہا: جاؤ اپنا کام کرو۔ مسلمان نے کہا :عنقریب یہاں سے ایسا شخص گزرے گا جو تجھے اچھی طرح جواب دے گا چنانچہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں سے گزرے تو اس منافق سے فرمایا: حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز پڑھا رہے ہیں اور تو یہاں بیٹھا ہے؟ منافق نےکہا: جاؤ اپنا کام کرو۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:میرا یہی کام ہے اتنا کہا اوراسے مارنا شروع کر دیا یہاں تک آپ کی سانس پھول گئی پھر آپ مسجد میں داخل ہو گئے اورپیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نماز ادا کی جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سلام پھیرا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اور عرض کی : یا رسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!تھوڑی دیر پہلے ہی میں ایک شخص کے پاس سے گزرا اس وقت آپ نماز پڑھا رہے تھے میں نے اس سے کہا: اللہکے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھا رہے ہیں اور تم یہاں بیٹھے ہو؟ تو اس نے کہا: جاؤ اپنا کام کرو۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:” تم نے اس کی گردن کیوں نہ اڑا دی۔“حضرتِ سیِّدُناعُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجلدی سےاٹھےتوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”واپس آجاؤ تمہارے غصے میں عزت اور رضا میں حکمت ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرشتے ساتوں آسمانوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے نماز پڑھتے ہیں اُسےفلاں کی نماز کی حاجت نہیں۔“حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!فرشتوں کی نماز کیا ہے؟آپ نے کوئی جواب ارشاد نہ فرمایا۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام حاضر ہوئے اور عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عمر نے آسمان والوں کی نماز کے بارے میں پوچھا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:”ہاں۔“ جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی : عمر کو سلام دیجئےاور انہیں بتا دیجئے کہ آسمانِ دنیا کے فرشتے قیامت تک حالتِ سجدہ میں رہیں گے اور ان کی تسبیح”سُبْحٰنَ ذِي الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ “ہے، دوسرے آسمان والے فرشتے قیامت تک حالتِ رکوع میں رہیں گے اور ان کی تسبیح”سُبْحٰنَ ذِي الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوْتِ“ہے اور تیسرے آسمان والے فرشتے قیامت تک حالتِ قیام میں رہیں گے اور ان کی تسبیح”سُبْحٰنَ الْحَيِِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ“ہے۔