Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
343 - 475
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے حیا آتی ہے۔ میں نے کہا:بخدا!میں نےآپ کو ویسا ہی پایا جیساآپ کی والدہ نےآپ کا نام سعید(خوش بخت)رکھا ہے۔حضرتِ سیِّدُنا ابو حُصَیْنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: خالد بن عبداللہ مکہ مکرمہ آیا اور  حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوگرفتار کر لیا۔
	حضرتِ سیِّدُنا واصِل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَافِر اس میں اتنا اضافہ کرتے ہیں کہ مجھے حضرتِ سیِّدُنا ابو عبداللہ یزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بتایا:جب  حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو لایا گیا تو ہم ان کے پاس آئے ،اس وقت وہ بہت خوش تھےاور ان کی بیٹی ان کی گود میں تھی اور ان کی گرفتاری پر رو رہی تھی، ہم ان کے ساتھ بابُ الْجِسْر(مکہ کے خارجی دروازے) تک گئے تو چوکیدار نے کہا : ہمیں اپنا ضامن دے کر جائیں، کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ آپ خود کو ہلاکت میں ڈال دیں گے۔حضرتِ سیِّدُنا یزیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں ان کا ضامن بن گیا۔ 
(5641)…حضرتِ سیِّدُناعمر وبن سعیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی شہادت کے وقت اپنے بیٹے کو بلوایا تو وہ رونے لگا،آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:تم کیوں روتے ہو؟ تمہارا والد 57سال کی عمر کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا۔ 
(5642)…حضرتِ سیِّدُنا ہِلال بن خَبَّاب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ رجب کے مہینے میں عمرے کے لئے نکلا، انہوں نے کوفہ سے عمرے کا اِحرام باندھا پھر عمرہ کر کے لوٹے تو نصف ذُوالْقَعْدہ کو حج کا احرام باندھ لیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سال میں دو مرتبہ سفر کرتے تھے ایک مرتبہ عمرے کے لئے اور ایک مرتبہ حج کے لئے۔
بیٹے کے وصال کی پیشن گوئی:
(5643)…حضرتِ سیِّدُنا کثیر بن تمیم داری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن سعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حاضر ہوئے وہ فقہ کے اچھےعالِم تھے،حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں عبداللہ کے اچھے حالات کو جانتا ہوں۔میں نے عرض کی :وہ کیا ہیں؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اس کا انتقال ہو جائے گا۔چنانچہ