حَلاوتِ دعا قبولیت کی نشانی ہے:
(5636)…حضرتِ سیِّدُنا داؤد بن ابو ہِندرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب حَجَّاج نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوقید کیا توآپ نے فرمایا: مجھے شہید کر دیا جائے گا اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نے اور میرے دو ساتھیوں نے دعا مانگی تو ہم نے دعا کی مٹھاس کو پایا پھر ہم نے شہادت کی دعا مانگی میرے ساتھی تو شہادت پا چکےاور میں شہادت کا منتظر ہوں۔حضرتِ سیِّدُنا داؤد بن ابو ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ان کے خیال میں حلاوتِ دعا قبولیت کی نشانی ہے۔
مستجابُ الدعا:
(5637)…حضرتِ سیِّدُنا اَصْبَغ بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک مرغا تھا اورآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس کی اَذان سے نماز فجر کے لئے اٹھتے تھے، ایک صبح مرغ نے اذان نہ دی توآپ نماز کے لئے بیدار نہ ہو سکے،آپ کو اس معاملے کا بڑا صدمہ پہنچا لہٰذاآپ نے کہا: آج مرغ کو کیا ہو گیا ؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی آواز ختم کر دے۔ چنانچہ اس کے بعد کبھی کسی نے اس مرغ کی آواز نہیں سنی۔آپ کی والدہ نے فرمایا:بیٹا!اب کبھی کسی کے لئے بد دعا مت کرنا۔
(5638)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا رکھنا ایمان کی بنیاد ہے۔
(5639)…حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس طرح دعا کرتے تھے:اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ صِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ یعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سے تجھی پر سچے توکل اورحُسْنِ ظن کا سوال کرتا ہوں۔
جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا:
(5640)…حضرتِ سیِّدُناابو حصین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس مکہ مکرمہ آیا اور ان سے کہا: خالد بن عبداللہ آنے والا ہے اور آپ اس سے محفوظ نہیں، میری بات مانئیےاور یہاں سےچلے جائیے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: خدا کی قسم!فرار ہونے میں مجھے