Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
341 - 475
 وقاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: مَعَاذَ اللہ(اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی پناہ ) وہ جب سورۂ مؤمن کی اس آیت مبارکہ:
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیۡۤ اَعْنَاقِہِمْ وَ السَّلٰسِلُ ؕ یُسْحَبُوۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾ (پ۲۴،المؤمن:۷۱)	
ترجمۂ کنز الایمان: جب اُن کی گردنوں میں طَوق ہوں گے اور زنجیریں گھسیٹے جائیں گے۔
	جیسی آیات تلاوت فرماتے تھے تو  کھینچ کر پڑھتے تھے ۔
(5629)…حضرتِ سیِّدُناابنِ شِہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہماری امامت فرماتے تھے اورخوبصورت انداز میں تلاوتِ قرآن کیا کرتے تھے۔
اتنی زیادہ تلاوتِ قرآن:
(5630)…حضرتِ سیِّدُنااسحاقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کعبہ شریف  میں داخل ہوئے تو ایک ہی رکعت میں پورا قرآنِ پاک تلاوت کرلیا۔
(5631)…حضرتِ سیِّدُنا وِقاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ رمضان کے مہینے میں مغرب اور عشا کے درمیان ایک ختم قرآنِ پاک کیا کرتے تھے۔
(5632)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالمَلِک بن ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر دو راتوں میں قرآنِ پاک ختم کیا کرتے تھے۔
فقہ میں مقام:
(5633)…حضرتِ سیِّدُنا جعفر بن ابو مُغِیرہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اہل کوفہ میں سے جب کوئی حضرتِ سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مسئلہ پوچھتا تو ارشاد فرماتے: کیا تم میں ام دہماء کابیٹا موجود نہیں؟(یعنی حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)۔ 
(5634)…حضرتِ سیِّدُنااَشْعَث بن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں:کہا جاتا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہماہر ترین عالِم ہیں۔
(5635)…حضرتِ سیِّدُنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناسعید بن جبیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہو گیا مگر زمین پر ہر شخص ان کے علم کا محتاج ہے۔