Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
339 - 475
صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ یعنی اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اپنا دروداور اپنی رحمت  رسولوں کے سردار پر فرما۔
عہد نامہ:
(5622)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت  مبارکہ تلاوت فرمائی:
اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحْمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾ (پ۱۶،مریم:۸۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: مگر وہی جنہوں نے رحمٰن کے پاس قرار رکھا ہے۔
	 پھر فرمایا :قیامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا: جس کے پاس میرا عہد ہے وہ حاضر ہو جائے، لوگوں نےعرض:کی اےابوعبدالرحمٰن!ہمیں (وہ عہد)سکھادیجئے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اس طرح دعا مانگا کرو:اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اِنِّیْ اَعْهَدُ اِلَيْكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا اِنَّكَ اِنْ تَكِلْنِیْ اِلٰى نَفْسِیْ تُقَرِّبْنِیْ مِنَ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِیْ مِنَ الْخَيْرِ وَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْہُ لِیْ عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّہٖ اِلَیَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ یعنی اے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والے!اے پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے!میں تیرے پاس اپنی اس دنیا کی زندگی میں ایک عہد رکھتا ہوں، مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر، اگر تو مجھے میرے نفس کے حوالے کردے گا تو وہ مجھے خیر سے دور اور شر کے قریب کر دے گا اور میں تیری رحمت کے بغیر کسی چیز پر بھروسا نہیں کرتا، میرے اس اقرار کو بطور عہد نامہ محفوظ فرما اور قیامت کے دن مجھے عطا کر  بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیِّدُنامحمدبن کرام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَامکی نصیحت
٭…کسی نے حضرتِ سیِّدُنامحمدبن کرامعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَامسےعرض کی:مجھےنصیحت فرمائیے۔آپ نے فرمایا:جتنی کوشش اپنےنفس کوراضی کرنےکےلئےکرتےہواتنی اپنےخالق کی رضاکےلئےبھی کرو۔ (احیاء العلوم،کتاب التوبة،۴/۶۹،دارصادربیروت)