ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جو بھی ان کلمات کے ساتھ یہ کلمات: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللہِ بھی ملا لے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسکی طرف نظر فرمائے گا اور وہ بندے کی طرف نظر رحمت ہی فرماتا ہے۔
دعا کی قبولیت کا وقت:
(5613)…حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جس شے کا سوال کیا جائے وہ عطا فرما دیتا ہے(1)۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مخلوق کی ابتدا فرمائی تو اتوار اور پیر کے دن زمین کو بنایا منگل اور بدھ کے دن آسمانوں کو بنایا جمعرات اور جمعہ کی عصر تک رزق اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو بنایا لہٰذا قبولیت کا وقت نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب کے درمیان کا ہے۔
ذاکرین کا ذکر:
(5614)…حضرتِ سیِّدُنانعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: تمام نبیوں کے سروَر،محبوبِ ربِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ تسبیح، تہلیل، تکبیر اور حمد کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظمت کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ذکر عرش کے ارد گرد جمع ہو جاتا ہے اور اس کی آواز مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ہوتی ہے اور وہ اپنے صاحب(ذکر کرنے والے)کا ذکر کرتاہےکیا تم میں سے کسی کو یہ پسند نہیں کہ تمہارے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں کوئی چیز ہو جو تمہارا ذکر کرتی رہے؟(2)
حلال وحرام واضح ہے:
(5615)…حضرتِ سیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:میں نے نبیوں کے سُلطان،رحمَتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہےاور ان دونوں کے درمیان جو امور ہیں وہ مشتبہ ہیں جو ان مشکوک امور سے بچ گیا اس نے اپنا دین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری ،کتاب الطلاق،با ب اشارة فی الطلاق و الامور،۳/ ۴۹۴ ،حدیث:۵۲۹۴
2…مسند احمد، مسند الکوفیین ،۶/ ۳۷۵ ،حدیث: ۱۸۳۹۰ ،بتغیر قلیل