Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
334 - 475
 اور اس آنسو کی گرمی اس کے چہرے کو پہنچی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کےچہرے کو جہنم پر حرام فرما دے گا۔(1)
بیماری رحمت ہے:
(5606)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ہم  بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرا دیئے،ہم نے عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مسکرانے کا کیا سبب ہے؟ ارشاد فرمایا:مجھے مومن پر تعجب ہے  کہ وہ بیمار ہونے پر غمگین ہوتا ہےاگر وہ جان لے کہ بیماری میں کیا ہےتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےملاقات کرنے تک بیمار رہنا پسند کرے۔(2)
(08-5607)…حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ایک دن حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائےتوہم نےعرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا :”مجھے اس مسلمان بندے پر تعجب ہے جو بیمار ہونے کو ناپسند کرتا ہےاگر وہ جان لے کہ بیماری میں اس کے لئے کیا ہے توہمیشہ بیمار رہنا ہی پسند کرے۔پھر آپ نے اپنی نظرِ مبارکہ کو آسمان کی طرف اٹھایا پھر جھکالیا اور مسکرائے تو ہم نے عرض کی: یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مسکرانے کا سبب؟ ارشاد فرمایا:مجھے ان دو فرشتوں پر خوش کن حیرت ہو رہی ہے جو بندے کو ڈھونڈتے ہوئے اس کی نماز پڑھنے کی جگہ پر آتے ہیں مگر دیکھتے ہیں کہ بیماری نے اسے روک رکھا ہےلہٰذا لوٹ جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: یا ربّ!حالانکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جانتا ہے۔ ہم تیرے فلاں بندے کو ڈھونڈتے ہوئے اس کی نماز پڑھنے کی جگہ پر گئے تو ہم نے دیکھا کہ بیماری نے اسے روک رکھا ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرماتا ہے:اس کے لئے اس عمل کا ثواب لکھ دو جو وہ کرتا تھااور میرے پاس اس کاجو اجر ہے وہ اسے دیا جائے گا۔(3)
تین ثوابِ جاریہ:
(5609)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  روایت کرتے ہیں:حضور نبیِّ کریم، رَءُوْفٌ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… معجم کبیر، ۱۰/ ۱۷ ، حدیث:۹۷۹۹
2… مسند ابو داؤد الطیالسی، الجزء الثانی، ص ۴۶، حدیث: ۳۴۷، بتغیر
3… مسند ابو داؤد الطیالسی، الجزء الثانی، ص ۴۶، حدیث:۳۴۷ ، ۳۴۸، دون ’’یعطی اجرہ ما کا عانیا فی حبالی ‘‘