Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
333 - 475
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایا:تیرے لئے امام کی قراءت کافی ہے خواہ جہری ہو یا سری۔(1)
(5601)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عتبہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اس وقت تک وصالِ ظاہری نہ ہوا حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  پڑھا بھی اور لکھا بھی(یعنی آپ کو پڑھنا بھی آتا تھا اور لکھنا بھی)۔(2)
ندائے خدا:
(3-5602)…حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:بنی سلیم کا ایک شخص عمرو بن عبسہ مدینہ میں حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں آیا اس نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صرف مدینہ میں زیارت کی تھی۔ عرض کی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے وہ  بات سیکھائیں جو میں نہیں جانتا اور آپ جانتے ہیں اور وہ سیکھائیں جو مجھے نفع دے ضرر نہ دے رات کے کون سے نوافل افضل ہیں؟آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نصف رات میں آسمانِ دنیا کی طرف نظررحمت کرتا ہے اور فرماتا ہے :میں اپنے بندوں سے اپنے علاوہ اور کسی بات کا سوال نہیں کرتااور فرماتا ہے :ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی بخشش کروں؟ ہے کوئی مدد مانگنے والا کہ میں اس کی مدد کروں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ(اپنی شان کے مطابق)اپنے عرش پر جلوہ گَر ہو جاتا ہے۔(3)
آنسو کا ایک قطرہ:
(5-5604)…حضرتِ سیِّدُنا ابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: جس کی آنکھ سےخوفِ خدا کے باعث مکھی کے سر کے برابر بھی آنسو نکلا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دارقطنی، کتاب الصلاة، باب ذکر قولہ :من کان لہ امام...الخ، ۱/ ۴۴۳، حدیث: ۱۲۳۸
2… سنن الکبرٰی للبیھقی، کتاب النکاح ، باب من لم یکن لہ  ان یتعلم ...الخ، ۷/ ۶۸، حدیث: ۱۳۲۹۰
3…سنن الکبرٰی للنسائی ،کتاب قیام الیل و تطوع النھار،باب ای الصلاة افضل؟ ، ۱/ ۴۱۳، حدیث:۱۳۰۸، عن ابی ذر 
	مسند احمد، مسند المکیین، حدیث رفاعہ بن عرابہ الجھنی، ۵/ ۴۸۰، حدیث:۱۶۲۱۸، بتغیر