Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
331 - 475
وَکُنۡتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنْہَاؕ پ۴،ال عمٰرن:۱۰۳)	
ترجمۂ کنز الایمان: اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا دیا۔
	مزید فرمایااللہ عَزَّ  وَجَلَّدو قَسم  والوں کو آگ میں جمع نہیں فرمائے گا (ایک وہ مشرک جن کا قول قرآن مجید نے بیان فرمایا:) وَاَقْسَمُوۡا بِاللہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمْ ۙ لَا یَبْعَثُ اللہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ   (پ۱۴،النحل:۳۸)	
ترجمۂ کنز الایمان: اور انہوں نے اللہکی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہمردے نہ اٹھائے گا۔
	 جبکہ ہم اپنے حلف میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم کھاتے ہیں کہ وہ ہمیں مرنے کے بعد ضرور اٹھائے گا۔
(5597)…حضرتِ سیِّدُنا عون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک شخص نے اپنے بیٹے کو وصیت کی: اے میرے بیٹے! اپنے اوپر خوفِ خدا کو لازم کر لو، کوشش کرو کہ تمہارا آج کا دن گزشتہ دن سے بہتر ہو اور آنے والا دن آج کے دن سے بہتر ہو، جب نماز پڑھو تو  آخری سمجھ کر پڑھو ، کثرت سے حاجات طلب کرنے سے بچو بے شک وہ عارضی فقر ہیں اور ایسے کاموں سے بچو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔
انوکھی لونڈی:
(5598)…حضرتِ سیِّدُناثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک لونڈی تھی جس کا نام بشرہ تھا، وہ قرآن کی تلاوت بڑی خوب صورت آواز میں کرتی تھی، ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے بُشْرہ! میرے  دوستوں کو تلاوت سناؤ تو اس نے تلاوت کی اس کی آواز میں بڑا درد اور غم تھا،لوگوں نے اپنے سر سے عمامے اتار کر اس کے آگے ڈال دیے اور رونے لگے، ایک دن آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: اے بشرہ! میں نے تجھے تیری آواز کی خوب صورتی کی وجہ سے ایک ہزار دینار میں خریدا تھا ، میرے سوا تجھ پر کسی کی ملکیت نہیں جا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد ہے، حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : وہ اس وقت کوفہ میں بہت بوڑھی ہو چکی تھی اگر مجھے اس پر مشقّت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ضرور اسے اپنے پاس بلوا لیتا اور وہ اپنی آخری عمر تک ہمارے پاس رہتی ۔