Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
330 - 475
 خوش ہو، اس کا طلب کرنا شر اور اس کا چھوڑ دینا جرم ہو، لوگوں کے عیب میں مشغول رہنے کے سوا کوئی کام نہ ہو، احسان میں اس کے لئے کوئی فضیلت نہ ہو، عادل لوگوں میں سے اس کی طرف کوئی مائل نہ ہو اور نہ اس سے کوئی محبت کرے، خیانت کرنے والے اس کے محبوب ہوں اور امانت دار لوگ اس کے دشمن ہوں،اگر سلام کرو تو نہ سنے اگر سنے تو جواب نہ دے ، حاسدوں کی طرح دیکھےاور بغض و کینہ رکھنے والوں کی طرح پیش آئے ،بخیل کامذاق اڑائےجبکہ خود پیٹھ پیچھے کھائے، جس موجود کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اس سے راضی ہواور جس غائب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اس سے ناراض ہو،خیانت کرنے میں بڑا بے باک ہو، امانت کے معاملے میں بے پروا ہو،جو پسند ہو اس سے جھوٹ بولے ،جو ناپسند ہو اسے دھوکا دے، برے انداز میں ہنسے،بے ادبوں کی طرح چلے،اس کے پڑوسی اس سے مامون نہ ہوں،اس کے ساتھی اس سے سلامت نہ ہوں،اگر وہ بات کرے تو سختی کرے اور اگر اس سے بات کرو تو تنگ ہو،اگر تو اسے برا کہے تو تجھے خوش کرے اور اگر تو اسے خوش کرے تو تجھے نقصان پہنچائےاور اگر تو اس سے جدا ہو جائے توتیری غیبت کرے، اگر تو اس کا ہم راز ہو تو تجھے تکلیف پہنچائے، اگر تو اس کی اتباع کرے تو تجھ پر بہتان لگائے، اگر تو اس کی برابری کرے تو تجھ سے حسد کرے،اگر تو اس کی مخالفت کرے تو تجھے نقصان پہنچائے، فضیلت والے سے حسد کرے ، فضیلت والا بننے کے لئے زہد اختیار کرے، خود سے جو افضل ہو اس سے حسد کرے، زاہدوں والے عمل کرے،جو اس کے ساتھ بھلائی کرے اس کو بدلہ دینے سے عاجز ہو، جو اس کی مخالفت کرے اس کے ساتھ زیادتی کرے، خاموش نہ رہے تاکہ سلامت رہےبلکہ بلا سوچے سمجھے کلام کرے، اس کی زبان اس کے دل پر غالب ہو،اس کا دل اس کی بات کی تائید نہ کرے،بحث و مباحثہ کرنے کے لئے علم سیکھے، ریا کاری کرنے کے لئے فقیہ بنے،اپنی بڑائی ظاہر کرے،جو بات چھپانے والی ہو اسے ظاہر کرے اور جو ظاہر ہو اسے چھپا نہ سکے،فانی چیزوں کی طرف جلدی کرے جبکہ باقی رہنے والی چیزوں میں سستی کرے اور دنیا کے معاملے میں جلد بازی کرے جبکہ تقوٰی میں سستی کرے۔
(5596)…حضرتِ سیِّدُنا عون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی یہ شان نہیں کہ ہمیں ایک چیز سے نکال کر پھر اسی میں لوٹا دے،چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے: