Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
329 - 475
معاملے میں ربّ تعالیٰ کا خوف نہیں رکھتا، جو اس سے بڑھ کر ہو اس کے شر سے ربّ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہے جبکہ ماتحت کے بارے میں ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ نہیں مانگتا، موت سے ڈرتا ہے لیکن مرنےکی امید نہیں رکھتا، جس سے ڈرنا چاہیے اس سے بے خوف رہتا ہے حالانکہ اسے ہونا یقینی ہے اور اپنی امید سے مایوس نہیں ہوتا حالانکہ اس کانہ ہونایقینی ہے،اس علم کےنفع کی امیدکرتاہےجس پرعمل نہیں کرتااورجہالت کےضررسےبےخوف رہتا ہے حالانکہ یہ یقینی ہے، مخلوق میں خود سے کمتر کو اپنا تابع سمجھتا ہے جبکہ مافوق کو بھول جاتا ہے، اپنے سے زیادہ رزق والے کی طرف نظر کرتا ہے جبکہ کمتر مخلوق کو بھول جاتا ہے ، دوسرے کی ادنیٰ سی خطا پر بھی خوف کرتا ہے جبکہ اپنے کمتر عمل پر بھی امید رکھتا ہے پردے کو غیرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ اپنے معاملے میں غیرت سے غافل رہتا ہے ، جب یقین کی بات کی جائے تو کہتا ہے: یہ تو پہلے والوں کا حصہ تھا۔ اگر کہا جائے کہ کیا تم پہلے والوں جیسے اعمال نہیں کرو گے؟ تو کہتا ہے؟ بھلا کس میں طاقت ہے کہ ان جیسا ہو سکے۔ باتیں بڑی بڑی کرے لیکن عمل کرنے میں جان جائے، امانت کو ہلکا جانے اور خیانت کو بہت برا سمجھے، نرمی اختیار کرے  تاکہ لوگ اس کے پاس امانت رکھوائیں جبکہ اس میں خیانت کی گھات لگائے رکھے، ایسی دوستی رکھے جس میں دشمنی کو چھپائے رکھے، گناہوں میں جلدی کرنے والا ہو اور نیکیوں میں سستی کرتا ہو، شعر اس کے لئے آسان ہوں اور ذکر مشکل ہو، فقرا کے ساتھ ذکر کرنے سے زیادہ  مالداروں کے ساتھ فضولیات میں مشغول ہونا پسند کرتا  ہو، نیند کے معاملے میں جلدی کرے اور روزے میں تاخیر کرے، نہ راتوں میں قیام کرے اور نہ صبح میں روزہ رکھے، صبح ایسے کرے کہ آنکھوں میں نیند بھری ہو جبکہ رات بھی نہ جاگا ہواور ایسے چلتے پھرتے شام کا انتظار کرے گویا روزے سے ہے جبکہ روزہ بھی نہ رکھا ہو۔ 
برےبندےکی علامات:
	 حضرت سیِّدُنا مسعودی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ نماز پڑھے تو چوڑا ہو جائے،  رکوع کرے تو جانوروں کی طرح کرے، سجدہ کرے تو ٹھونگ مارے، اگر سوال کرے تو پیچھے پڑ جائے اور اگر اس سے سوال کر لیا جائے تو جان چھڑائے، اگر بات کرے تو قسم کھائے اور اگر قسم کھائے تو توڑ دے، اگر وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،اگر نصیحت کی جائے تو  چہرا شِکن آلود رکھےاور اگر تعریف کی جائے تو