جو نجات کی امید رکھتا ہے لیکن بچتا نہیں، نعمت کی زیادتی چاہتا ہے لیکن کما حقہ شکر ادا نہیں کرتا وہ اسی لائق ہے کہ اس کا عذر نہ مانا جائے ، جو لازم نہیں اس کو لازم کرتا ہے اور جو لازم ہے اس کے اکثر کو ضائع کر دیتا ہے مانگتا تو زیادہ ہے لیکن خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے ، اس کے لئے بھلائی کی مقدار مقرر کر دی گئی، اس پر رزق کشادہ کر دیا گیا حساب میں تخفیف کر دی گئی پس اسے اتنا ہی دیا گیا جتنا اسے کافی ہو اور وہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے لغویات میں مشغول ہو جائے لیکن پھر بھی وہ سرکشی میں ڈالنے والی مالداری سے نظریں پھیر کر اس چیز کو نہیں دیکھتا جس نے اسے غیر کی محتاجی سے بچایا ، جو رزق دیا گیا اس کے شکر سے رک جاتا ہے اور جو پاس موجود ہے اس میں اور زیادتی تلاش کرتا ہے ، جو دیا گیا اس کے شکر سے تھک بیٹھا اور نعمت اس پر پوری کی گئی تواس کے شکر کو بھلا ہی دیا ، دوسروں کو منع کرتا ہے خود نہیں رکتا اور اس کام کا حکم کرتا ہے جو خود نہیں کرتا، بغض میں مرا جا رہا ہے اور محبت میں کمی کرتا ہے، جو چیز اس کے پاس نہیں ہے اس کی محبت نے اور جو موجود ہے اس کے بغض نے اسے دھوکے میں ڈال دیا، لگتا ایسے ہے گویا صالحین سے محبت کرتا ہے لیکن اعمال ان کے جیسے نہیں کرتا ، بروں سے نفرت کرتا ہے جبکہ وہ خود بھی ان میں سے ایک ہے، بغض ہوتے ہوئے آخرت کی امید رکھتا ہے جبکہ یقینی طور پر عذاب کا خوف بھی نہیں رکھتا، دنیا میں اپنی خواہشات پر قادر نہیں جبکہ آخرت میں باقی رہنے والے کو قبول بھی نہیں کرتا، دنیا میں فانی کی طرف جلدی کرتا ہے جبکہ آخرت میں باقی رہنے والی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اگر درست رہے تو سمجھتا ہے میری توبہ قبول ہو گئی اور اگر مصیبت میں مبتلا کیا جائے تو پرہیزگاروں والی باتیں کرتا ہے جبکہ دنیا داروں جیسے اعمال کرتا ہے موت کو برا ہونے کی وجہ سے ناپسند کرتا ہے جبکہ اپنی زندگی میں برائی سے بچتا بھی نہیں ، موت کو اس لئے ناپسند کرتا ہے کہ وہ کچھ نہ چھوڑے گی اور زندگی کو اپنے کاموں کی وجہ سے پسند کرتا ہے، اگر دنیا سے روکا جائے تو نہیں رکتا اور اگر دنیا دی جائے تو اس کا پیٹ نہیں بھرتا، اگر خواہش پیش کی جائے تو پوری کر لیتا ہے کہ نیک عمل کر لوں گا اور اگر عمل کرنے کو کہا جائے تو سستی کرتا ہے اور کہتا ہے خوف ہی کافی ہے، نہ اس کا خوف سستی کو دور کرتا ہے اور نہ اس کی رغبت اسے نیک عمل پر ابھارتی ہے، بغیر عمل کے اجر کی امید رکھتا ہے اور لمبی امید کی وجہ سے توبہ کو مؤخر کرتا ہے رزق کی نئی نئی راہیں تلاش کرتا ہے، ربّ کے معاملے میں مخلوق سے ڈرتا ہے جبکہ مخلوق کے