Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
327 - 475
رہتا ہے تاکہ سلامت رہے، کلام کرتا ہے تاکہ سمجھے، تنہائی اختیار کرتا ہے تاکہ (عبادت کا)فائدہ اٹھائے اور لوگوں سے فقط اس لئے ملتا ہے تاکہ علم حاصل ہو، بھلائی کی بات بولنے سے صرف اس وقت خاموش رہتا ہے جب اسے وہ بات یاد نہ ہو اور فضول کلام کی طرف کان نہیں لگاتا، امانت کا تذکرہ دوستوں سے بھی نہیں کرتااور دشمنوں کے سامنے اپنی گواہی کو نہیں چھپاتا، عمل خیر میں ذرّہ برابر ریاکاری نہیں کرتااور نہ ہی حیاکا دامن ہاتھ سے جانے دیتا ہے اس کے نزدیک گلوکاروں  کے ساتھ لہو ولَعِب پر مشتمل محفلوں  میں بیٹھنے کے بجائے قراء کے ساتھ ذکر کی مجالس میں شریک ہونا زیادہ محبوب ہے۔
کتنابُرابندہ ہےوہ۔۔۔!
	اے میرے بیٹے! اس شخص کی طرح نہ ہونا جوگزرے ہوئے میں خود ساختہ یقین کے ذریعے خوش ہوتا ہے اور جس کی آئندہ امید و طلب ہو اس میں یقین کو بھول جاتا ہے جبکہ گزرے ہوئے کے بارے میں کہتا ہے: اگر تقدیر میں ہوتا تو ضرور ہو کر رہتا  اور آئندہ کے بارے میں کہتا: ارے آدمی !  اطمینان نہ کر بلکہ خوب نگاہیں جما کر اپنا رزق تلاش کر،  وہ شخص موجود رزق پر یقین نہیں رکھتا، جو وہ گمان کرتا ہے اس کا نفس اس پر غالب نہیں آتا اور اس کا یقین نفس پر غالب نہیں آتا لہٰذا وہ شک میں ہی مبتلا رہتا ہے اور اس کا گمان ہوتا ہے کہ اگر رحم نہ کیا گیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، جب بیمار ہو تو نادم ہوتا ہے ، تندرست ہو تو بے خوف ہو جاتا ہے، محتاج ہو تو غمگین ہوتا ہے اور مال مل جائے تو فتنہ کرتا ہے، عمل کی طرف رغبت ہو تو سست ہو جاتا ہے اور چست ہو تو زاہد بنتا ہے عمل کرنے سے پہلے رغبت کرتا ہے لیکن جب کرنے کا وقت آئے تو کرتا نہیں بلکہ کہتا ہے میں تھک چکا ہوں کیسے عمل کروں، میں تو بیٹھ کر تمنا ہی کروں گا چنانچہ وہ مغفرت کی تمنا لئے گناہ کرتا رہتا ہے، یو ں اس کی عمر کا ابتدائی حصہ غفلت و دھوکے میں گزر گیا ، درمیانی عمر لغزشوں میں نکل گئی اور اب آخری عمر میں سست وکاہل ہو گیا ، اس کی خواہشات لمبی ہوئیں تو فتنہ میں پڑ گیا اور عمر کی درازی نے دھوکے میں ڈال دیا ، جن اعمال میں عمر گزاری اب ان میں معذرت کرتا ہے لیکن اس کی معذرت قابل قبول نہیں، وہ اپنی وہ عمر گزار چکا جس میں نصیحت پکڑنے والا نصیحت پکڑتا ہے پس وہ گناہ اور نعمت سے نشان زدہ ہے  کہ اسے نعمت دی گئی تو شکر نہیں کیا اور اگر روکا گیا تو کہنے لگا : میں رکنے کی طاقت نہیں رکھتا ، کیا ہی برابندہ ہے وہ