میں تیری نافرمانیوں میں جا پڑا جبکہ تو دیکھ رہا تھا،مجھے سے بڑا بد بخت اور کون ہوگا کہ تیرے سامنے تیری نافرمانی کرتا ہوں جبکہ تیری نازل کردہ کتاب میں مجھے منع کیا گیا، الٰہی مجھے جب کبھی اپنے گناہ اور نافرمانیاں یاد آتی ہیں تو میری آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتیں لہٰذا میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں میری توبہ قبول فرما،تیری توحید کا اقرار کرنے اور تجھ پر ایمان لانے کے بعد مجھے جہنم کا ایندھن نہ بنا، میری میرے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی اپنی رحمت کے سبب مغفرت فرما۔اٰمِیْن رَبَّ الْعَالَمِیْن۔
بیٹے کو نصیحت:
(95-5594)…حضرتِ سیِّدُنا عون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹے کو مکتوب بھیجا:اے میرے بیٹے!اس شخص کی طرح ہو جا جو ایسے لوگوں سے دور ہوتا ہے جن سے یقین وپارسائی نے منہ پھیر لیا اور ایسوں کے قریب ہوجا کہ نرمی ومہربانی جن کے قریب ہوتی ہےاور اس شخص کا دور ہونا فخرو تکبر کی بنا پر نہیں اور نہ ہی اس کا دور ہونا دھوکا یا فریب ہے۔ بلکہ وہ اپنے سے پہلے والے کی اقتدا کر رہا ہے کیونکہ وہ اپنے بعد والوں کے لئے امام ہوتا ہے، اس کا علم چھپتا نہیں اور جہالت ظاہر نہیں ہوتی، اپنے مقصود میں جلدی نہیں کرتا، معافی اور چشم پوشی اختیار کرتا ہے، اپنے حق کو پورا کرنے کی خوب کوشش کرتا ہے، اس سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور اس کے شر سے بے خوفی ہوتی ہے، اگر وہ غافلوں کے ساتھ ہو تو ذاکرین میں لکھا جاتا ہے اور اگر ذاکرین کے ساتھ ہو تو غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، جو اس کو نہیں جانتا اس کی تعریف اسے دھوکے میں نہیں ڈالتی اور جنہیں وہ جانتا ہے انہیں بھلاتا نہیں،اگر لوگ اس کی پاکی بیان کریں تو ڈرتا ہے اور ان کی لاعلمی پر استغفار کرتا ہے اور کہتا ہے : میں اوروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو خوب جانتا ہوں اور میرا رب تو مجھے مجھ سے بھی بہتر طور پر جانتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو عمل میں تھکا دیتا ہے اور جتنی جلدی اعمال صالحہ ہو سکیں بجا لاتا ہے دن ذکر میں، شام شکر میں، رات خوف خدا میں اور صبح خوشی کی حالت میں کرتا ہے، اس کا ڈرنا اس غفلت سے ہوتا ہے جس سے ڈرایا گیا ہے اور اس کا خوش ہونا اجر وثواب اور رحمت کے ملنے کے سبب ہوتا ہے، اس کی ناپسندیدہ چیز میں نفس اس کی نافرمانی کرے تو نفس کی خواہش کو پورا نہیں کرتا پس اس کی رغبت ہمیشہ رہنے والی میں ہوتی ہے اور جو موجود ہے اس سے بچتا ہے، علم کو بردباری کے ساتھ جمع کرتا ہے، خاموش