چیز سےجس سے میں ڈرتا ہوں، یا میں کیسے نہ زیادہ سے زیادہ رؤوں جبکہ میں نہیں جانتا کہ میرے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے میرے بارے میں کیا ارادہ فرمایا ہے؟یا میری آنکھیں کیسے اس معاملے میں ٹھنڈی ہوں جو مجھ سے ہو کر گزر گیا، میں اپنے نفس کو کیسے اس معاملے پر پیش کروں جو میری خواہش کو تقویت نہ دےیا میرا خوف اس معاملے میں کیسے نہ بڑھے جس معاملے میں میرا رونا بڑھتا ہے، جو میرے سامنے ہے اس کو یاد کر کے میرا نفس کیسے خوش ہوسکتا ہے، میری خواہشات کیسے طویل ہو سکتی ہیں جبکہ موت میرےپیچھے ہےیا میں کیسے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کاخوف نہ کروں حالانکہ اس نے میری خواہشات کو خوب پورا کیا۔
میراحال کتنابراہے!
ہائے افسوس!کیا میری غفلت نے میرے علاوہ کسی ایک کو بھی نقصان پہنچایا؟ کیا جب میرا حصہ ضائع ہو گیا تو کسی نے میرے لئے کچھ کیا؟ کیا میرا عمل صرف میرے لئے نہیں تھا؟ تو میں نے اپنے نفس کے لئے وہ جمع کیوں نہ کیا جس کا نفع میرے لئے ہی تھا؟ہائے افسوس!گویامیں مرچکا ہوں، میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے پھر سے بنایا جیسا کہ پہلے بنایا تھا پھر مجھے کھڑا کیا اور مجھ سے سوال کیا اور میرے متعلق پوچھا حالانکہ وہ اسے مجھ سے بہتر جانتا ہےپھر اس معاملے کو گواہ بنایا جس نے مجھے میرے احباب اور میرے اہل سے غافل رکھا اور میں اپنے آپ میں مشغول رہا۔ زمین و آسمان تبدیل ہو گئے وہ تو فرمانبرداری کرتے تھے جبکہ میں نافرمان رہااور پہاڑوں کو چلایا گیا ان میں بھی میرے گناہوں کی مثل کوئی نہیں تھا، چاند سورج جمع کیے گئے اور ان پر بھی میرے جیسا حساب نہیں تھااور ستارےجھڑ گئے جبکہ ان سے وہ مطالبہ بھی نہیں ہوا جو مجھ سے کیا گیااور وحشی جانوروں کو جمع کیا گیا اور کسی کا عمل میرے عمل کی مثل نہ تھااور چھوٹا بچہ بھی جوان ہو گیا اس حال میں کہ اس کے گناہ بھی مجھ سے کم تھے۔ہائے افسوس!میرا حال کتنا برا اور میرا خطرہ کتنا بڑا ہے۔
اےرب عَزَّ وَجَلَّ!میری مغفرت فرما اور مجھے اپنی اطاعت پر کاربند فرما، میرے جسم کو اس پر قوت عطا فرما،میرے دل کو دنیا سے پھیر دے اور مجھے ان کاموں میں مشغول فرما جو میرے مددگار ہوں اور ان کاموں پر مجھے طاقت وقوت دے حتّٰی کہ بَحُسْنِ خوبی ادا ہو جائیں، مجھے پیدا کرنے کی ملاقات کے بعد جب تو مجھے اٹھائے تو مجھ پر احسان اور رحم فرمانااور جس دن تو حساب لے گا اس دن مجھے حساب کی سختی سے عافیت