Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
307 - 475
(5545)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کبھی ریشم کی ملاوٹ والے کپڑے پہنتے اور کبھی اونی لباس یا موٹی اونی چادر وغیرہ پہنا کرتے،آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: ریشم کی ملاوٹ والے کپڑے اس لئے پہنتا ہوں کہ میرے پاس امیر لوگ  بیٹھنے میں عار  محسوس نہ کریں(1) اوراونی کپڑے اس لئے پہنتا ہوں کہ غریب لوگ میرے پاس بیٹھنے سےنہ  گھبرائیں ۔
(5546)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہلے والے آگئے اور دوسرے تھکے ہوئےمنتظرہیں لہٰذاجسےچھوڑجاناہےاس کےبجائےان اعمال کی اصلاح کرلوجنہیں آگےبھیج رہےہو،بےشک مخلوق خالق کے لئے ، شکر انعام کرنے والے کے لئے، حیات موت کے بعد اور بقا قیامت کے بعد ہی ہے۔
کمالِ تقوٰی:
(48-5547)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:تقوٰی کا کمال یہ ہےکہ تیرے پاس جو علم ہے اس سے بڑھ کر علم کی تلاش کر ےاور نقصان یہ ہے کہ جو تو جانتا ہے اس میں زیادتی کی جستجو ختم کر دے کیونکہ موجودہ علم سے  نفع کا کم  ہونا آدمی کو زیادہ کی جستجو ترک کرنے پر ابھارتا ہے۔
(5549)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے :آج کا دن تیاری کا ہے کل کا دن جیتنے کا، انعام جنت ہے اور ہار جہنم ہے ،عفو و درگزر سے جہنم سے نجات ملے گی اور رحمت کے ذریعے جنت میں داخلہ ہو گا اور اعمال کے ذریعے منازل تقسیم ہونگی۔
تکبر کی علامت:
(5550)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: تیرے متکبر ہونے کے لئے اتنا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار انگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار انگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں۔ اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار انگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔ عمامہ یا چادر کے پلّو ریشم سے بُنے ہوں تو چونکہ بانا ریشم کا ہونا ناجائز ہے،لہٰذا یہ پلّو بھی چار انگل تک کا ہی ہونا چاہیے زیادہ نہ ہو۔(بہارشریعت،حصہ۱۶، ۳/ ۴۱۱)
	نوٹ:مزید تفصیل کےلئےبہارشریعت کےمذکورہ مقام کامطالعہ کیجئے!