اس کوپا نہیں سکتا، جو اس کے بارے میں نہیں جانتا وہ اسے لازم نہیں سمجھتا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ آسمان میں کس قدر ستارے ہیں مگر ان کے ذریعے راہنمائی وہی حاصل کرتے ہیں جو ان کا علم رکھتے ہیں ۔
حضرتِ سیِّدُنااحمد بن نصر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس روایت میں اضافہ کیا کہ تقوٰی کی اصل صبر ہے ، تقوٰی کا ثبوت عمل ہےاور تقوی کا کمال ورع ہے۔
ایک چراغ تھا جو بجھ گیا:
(2554)…حضرتِ سیِّدُناعبدالرحمٰن مسعودی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں فرمایا کرتے تھے: آپ اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ زاہد تھے اور اُس چراغ کی مثل تھے جس سے لوگ فائدہ حاصل کرتے تھے ان کے گھر والوں نے کہا: وہ ہمارے درمیان ہمارے ساتھ رہےانہوں نے ہمیں کبھی کوئی تکلیف نہیں دی مگر یہ کہ وہ ایک چراغ تھا جو بجھ گیا اور لوگ اس سے مستفیض ہونے سے محروم ہو گئے۔
قرآن و حدیث دونوں ضروری ہیں:
(5543)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: منقول ہے کہ قرآن کو چھوڑ کر صرف حدیث پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو باڑے کا دروازہ پکڑے کھڑا ہو اور اس باڑے میں بہت سی بھیڑ بکریاں بھی ہوں، اتنے میں وہاں سے ہرن گزریں تو وہ انہیں پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگ کھڑا ہو لیکن پکڑ نہ سکے، جب واپس آئے تو دیکھے کہ بکریاں بھی بھاگ چکی ہیں یوں ہرن بھی ہاتھ نہ آئے اور بکریوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔
(5544)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانقرآن سن کر ایمان نہ لانے والےکو اس لشکر کے ساتھ تشبیہ دیتے تھےجو جنگ کے لئے نکلے پھر اسے مال غنیمت حاصل ہو تو وہ اس مال کو اس طرح تقسیم کریں کہ بعضوں کو دیں اور بعضوں کو نہ دیں جب یہ لوگ پوچھیں کہ ہم سب ایک ہیں پھر ہمارا کیا قصور ہے کہ تم نے ہمیں نہیں دیا؟ تو ان سے کہا جائے: تم ایمان والے نہیں ہو۔