پسند آنے لگیں،کھدال والے نے کہا: جس معاملے میں مسلمان پڑے ہیں اس پر غمزدہ ہو؟ مسلمانوں پر تمہاری اس شفقت کے سبب عنقریب اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں نجات دے گا ۔ پوچھو کہ کون ہے جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا مانگی لیکن اس نے قبول نہ کی، اس سے سوال کیا لیکن اس نے عطا نہ کیا ، اس پر بھروسا کیا لیکن وہ کافی نہ ہوا اور اس پر یقین کیا لیکن اس نے نجات نہ دی ہو...؟غمزدہ شخص کہتا ہے: میں نے دعا کی:اَللّٰهُمَّ سَلِّمْنِیْ وَسَلِّمْ مِنِّیْیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری حفاظت فرما اور مجھ سے حفاظت فرما۔
حضرتِ عون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: فتنے تو ظاہر ہوئے مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کچھ نہ ہوا۔حضرتِ مسعر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: وہ کھدال والےحضرتِ سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام تھے۔
تقوٰی کیا ہے؟
(5540)…حضرتِ سیِّدُنا مسعودی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب مکتوب لکھتے تو اس طرح لکھتے:اَمَّا بَعْد! میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُس بات کی وصیت کرتا ہوں جسے یاد کرنا یاد کرنے والے کے لئے خوش بختی ہے اور ضائع کرنا ضائع کرنے والے کے لئے بدبختی ہے، تقوٰی کی اصل صبر ہے، تقوٰی کا ثبوت عمل ہے، تقوٰی کا کمال ورع ہےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تقوٰی کی شرط وہ ہے جس کو اس نے شرط مقرر کیا اور تقوٰی کا حق وہ ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لازم کیا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عہد کو پورا کرنا یہ ہے کہ معبود صرف اسی کو مانا جائے کسی اور کو نہیں اور اطاعَتِ الٰہی ہی میں کسی دوسرے کی فرمانبرداری کی جائے،معاملات کو اسی کی اطاعت کی خاطر مقدّم ومؤخر کیا جائے اور اس کے عہد کو پورا کرنے کی خاطر باقی تمام وعدے توڑ دیئے جائیں مگر کسی غیر کے وعدے کو پورا کرنے کی خاطر ربّ تعالیٰ کا عہد نہ توڑا جائے ،اس بات پر سب کا اتفاق ہے، اس کی مزید وضاحت بھی ہے جسے صاحب بصیرت ہی سمجھ سکتے ہیں اور اس کی معرفت رکھنے والے بہت تھوڑےہیں۔
(5541)…حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے بھلائی بہت زیادہ ہے لیکن بہت کم لوگ اسے دیکھ پاتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے لوگوں کے لئے اس بھلائی میں سے حصہ ہے لیکن جو اس کی طرف نظر نہیں کرتا اس کو نظر نہیں آتا اور جو اس کے لئے جستجو نہیں کرتا وہ