حکایت: کھدال والا
(5537)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک شخص مصر کے ایک باغ میں زمین سے کچھ توڑ رہا تھا اس نے سر اٹھایا تو ایک شخص کو ہاتھ میں کھدال پکڑے اپنے سر پر کھڑے دیکھا تو اسے حقیر جانا، کھدال والےنے کہا: تمہارے دل میں کیا بات ہے؟پہلا شخص خاموش رہا تو کھدال والے نے کہا: تمہارے دل میں دنیا ہے؟بے شک دنیا تو موجود ہے نیک اور گناہ گار دونوں ہی دنیا سے کھاتے ہیں یا پھر تمہارے دل میں آخرت اور آخرت تو ایک سچی حقیقت ہے جس میں حق و باطل کا فرق کیا جائے گا حتّٰی کہ اس نے یہ تک بتا دیا کہ اس کے بھی جوڑ ہیں جیسے گوشت میں جوڑ ہوتے ہیں، پہلے شخص کو اس کی باتیں پسند آئیں اور اس نے کہا :میرے دل میں تو وہ بات ہے جس میں لوگ مبتلا ہیں یعنی ابن زبیر کے فتنے میں مبتلا ہونا۔کھدال والے نے کہا : پوچھو کہ کون ہے جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا مانگی لیکن اس نے قبول نہ کی، اس سے سوال کیا لیکن اس نے عطا نہ کیا ، اس پر بھروسا کیا لیکن وہ کافی نہ ہوا اور اس پر یقین کیا لیکن اس نے نجات نہ دی ہو...؟پہلا شخص کہتا ہے: میں نے دعا کی:اَللّٰهُمَّ سَلِّمْنِیْ وَسَلِّمْ مِنِّیْیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میری حفاظت فرما اور مجھ سے حفاظت فرما۔
حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:فتنےتو ظاہر ہوئے مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کچھ نہ ہوا۔
(39-5538)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:اٰلِ زبیر کے فتنے کے زمانے میں ایک شخص مصر کے ایک باغ میں غمزدہ حالت میں روتے ہوئے زمین سے کچھ توڑ رہا تھا اس نے سر اٹھایا تو ایک شخص کو کھدال اٹھائے اپنے سامنے کھڑے دیکھا۔کھدال والے نے کہا: تجھے کیا ہوا تو غمزَدَہ کیوں ہے؟اس نے نا گواری سے جواب دیا :کچھ نہیں۔ کھدال والے نے کہا :کیا دنیا کا معاملہ ہے ؟بےشک دنیا تو حاضر ہے اور اس سے نیک و بد دونوں ہی کھاتے ہیں اور آخرت وہ تو آنے والی ایک سچی حقیقت ہے،قادرِ مُطْلَق بادشاہ اس میں فیصلہ کرنے والا ہو گا،جو حق اور باطل کو جدا جدا فرمائے گا حتّٰی کہ اس نےیہ تک بتا دیا کہ آخرت کے بھی جوڑ ہیں، جیسے گوشت میں جوڑ ہوتے ہیں جس نے اس میں خطا کی اس نے حق میں خطا کی، غمزدہ شخص کو اس کی باتیں