بچ جانے والی چیزکو دنیا کے لئے استعمال کرتے تھے اور آج تم ہو کہ دنیا سے بچ جانے والے کو آخرت کے لیے استعمال کرتے ہو۔
فقیروں کی صحبت:
(5531)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں اغنیاء کے ساتھ رہا تومیں نے ان میں کسی ایک کو بھی خود سے زیادہ غمزدہ نہ پایا ،اگر میں کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہوں جس کے کپڑے میرے کپڑوں سے زیادہ اچھے ہوں اور اس کی خوشبو میری خوشبو سے زیادہ اچھی ہو تو میں غمگین ہو جاتا پھر میں فقرا کے ساتھ رہا تو مجھے چین وسکون نصیب ہوگیا۔
(5532)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے: میں اغنیاء کے ساتھ بیٹھتا تو ان میں اکثر لوگوں سے زیادہ پشیمان و غمگین ہوتا تھا ، میں کسی کی سواری اپنی سواری سے بہتر دیکھتایا کسی کے کپڑے اپنے کپڑوں سے بہتر دیکھتا تو غمگین ہو جاتا پھر میں نے فقراء کی صحبت اختیار کی تو راحت وسکون نصیب ہوگیا۔
(5533)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے: عصمت یہ ہے کہ تم دنیا کی کوئی چیز طلب کرو لیکن تمہیں نہ دی جائے۔ مزید فرماتے ہیں: سب سے بڑی بھلائی یہ ہے کہ تم سے دنیا لپیٹ کر تمہیں اسلام میں سے کچھ عطا کر دیا جائے تو تم اسے عظیم سمجھو۔
موت کو یاد کرو:
(5534)...حضرتِ سیِّدُناعون بنعبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:جوبھی شخص موت کوکماحقہ پہچان لیتا ہے وہ آنے والے کل کو اپنی زندگی شمار نہیں کرتا ،کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے دن کا استقبال کیا مگر دن بھی پورا نہ کر سکے اور کتنے ہی کل کی تیاری کرنے والے کل کو بھی نہ پہنچ سکے،اگر تم موت اور اس کی مسافت پر غور کرو تو ضرور خواہشات اور اس کے دھوکوں سے نفرت کرو گے۔
(36-5535)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے دن کا استقبال کیامگر اس کو مکمل نہ کر سکے اور کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے آنے والے دن کا انتظار کیا مگر اس کو پا نہ سکے ، اگر تم موت اور اس کی مسافت پر غور کرو تو ضرور خواہشات اور اس کے دھوکوں سے نفرت کرو گے۔