(5526)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: بزرگان دین ملاقات کرتے اور سوالات کرتے تو ان کا مقصد فقطاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد کرنا ہوتا تھا۔
(5527)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لے کر پکارتاہے:اےفلاں!کیاتجھ سےآج کوئیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکرکرنےوالاگزراہے؟وہ کہتاہے:” ہاں۔“تو اسے مبارک باد دیتا ہے ۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا: پہاڑ خیر کی بات تو خوب سنتے ہیں، کیا وہ بھلائی کے علاوہ جھوٹی اور باطل بات بھی سنتے ہیں؟پھر یہ آیت تلاوت کی: لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔا اِدًّا ﴿ۙ۸۹﴾ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنۡشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾ (پ۱۶،مریم:۸۹تا۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک تم حد کی بھاری بات لائے قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ (مسمار ہو) کراس پر کہ انہوں نے رحمٰن کے لیے اولاد بتائی۔
(5528)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو 20 ہزار سے زیادہ درہم ملے تو آپ نے صدقہ کر دیئے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دوستوں نے عرض کی: اگر آپ ان کو اپنے بیٹے کی خوشحالی کے لئے استعمال کرتے تو ...؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو اس کے ذریعے مضبوط کیا ہے اور میرے بیٹے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ خوشحال کرے گا، حضرتِ سیِّدُناابو اسامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: آلِ مسعود میں آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بیٹے سے زیادہ کوئی خوشحال نہ تھا۔
گھر والوں کواللہکافی ہے:
(5529)...جب حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے کچھ سامان کی وصیت کی کہ اسے بیچ کر اس کی قیمت میری طرف سے صدقہ کر دی جائے۔عرض کی گئی: آپ اپنا سامان صدقہ کر کے اپنے گھر والوں کو خالی ہاتھ چھوڑ رہے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : میں اسے اپنے لیے آگئے بھیج رہا ہوں اور اپنے اہل کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو چھوڑتا ہوں۔
(5530)...حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تم سے پہلےکے لوگ آخرت سے