حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامیہ آیت لےکر حاضر ہوئے: وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾ (پ۵،النسآء:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجواللہاوراس کےرسول کاحکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہنے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اوریہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔(1)
بیمار کےلئےحضور کی دعائے شفا:
(5517)...اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:تمام نبیوں کے سروَر،محبوبِ ربِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی بیمار کے پاس تشریف لاتے تویوں دعا فرماتے: اَذْهِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَائُكَ شِفَاءًلَا يُغَادِرُ سَقَمًا یعنی اے لوگوں کے پالنہار! تکلیف کو دور فرما، شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہےاورشفا نہیں مگر تیری شفا ،ایسی شفا جو بیماری کا نشان نہیں چھوڑتی۔(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حضرتِ سیِّدُناعَوْن بن عبداللہ بن عُتْبَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
تابعین کرام میں سے ایک بزرگ حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی ہیں۔ آپ دل جمعی سے ذکر الٰہی میں مشغول اور حفاطت الٰہی میں رہنے والے،اُمَرااورمتکبرین سےدوررہنے والے،فقرااور مساکین پر نرمی کرنے والے، قدم بقدم صاحب بصیرت اورامیدوں کے دھوکے سے بچنے والے، اپنے نفس پر گریہ کرنے والے، حق کی طرف خوشی خوشی بڑھنے والے اور آخرت کے سفر کے لیے تیزی سے زادہ راہ اکٹھا کرنے والے تھے۔
منقول ہے:کمتر کوچھوڑنے اور برتر کواختیار کرنے کا نام تصوف ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم اوسط، ۱/ ۱۴۸، حدیث:۴۷۷
2… بخاری،کتاب المرضٰی،با ب دعاء العائد للمریض،۴/ ۱۴،حدیث:۵۶۷۵