Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
299 - 475
 ہیں؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:مختلف قسم کے جواہرات اس کے پھل ہیں اور اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جو اس سے ایک گھونٹ پیئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہا وہ کبھی سیراب نہ ہو گا ۔(1)
(5514)...اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:میں نبیوں کےسُلطان، رحمَتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کپڑوں سے جنابت کے اثر کو کھرچ دیتی تھی پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے۔ (2)
(5515)...اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: شاہِ مدینہ، قرار قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےنماز پڑھتےہوئے ٹھنڈ محسوس کی تو ارشاد فرمایا: عائشہ! اپنی چادر مجھ پر ڈال دو۔ میں نے عرض کی: میں حائضہ ہوں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:مجبوری بھی اور بخل بھی، تمہارا حیض تمہارے کپڑوں میں نہیں ہے۔(3)
آقا کادیوانہ:
(5516)...اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکرعرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ مجھےمیری جان سےزیادہ محبوب ہیں، میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب ہیں بلکہ آپ مجھے اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں،جب میں اپنے گھر میں ہوں اور آپ کی یاد آجائے تو اس وقت تک قرار نہیں آتا جب تک آپ کو دیکھ نہ لوں، جب میں اپنی موت اور آپ کے وصال کو یاد کرتا ہوں تو میں جانتا لیتا ہوں کہ آپ تو جنت میں انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ بلند مقام پر ہوں گےاور اگر میں جنت میں داخل ہو بھی گیا تو  پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں آپ کے دیدار سے محروم نہ ہوجاؤں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کوکوئی جواب ارشادنہ فرمایاحتّٰی کہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسنداحمد،مسند عبد اللّٰہ بن مسعود،۲/ ۵۶، حدیث:۳۷۸۷
2…مسلم،کتاب الطھارة،باب حکم المنی، ص۱۶۶، حدیث:۲۸۸
3…مسند ابی یعلی،مسند عائشة ، ۴/ ۹۱،حدیث:۴۴۶۸