میں بے اختیار ہیں ہم ان کے نقش قدم پر کیسے چلیں؟ کثرت سے سوال کرنے والے ایک انصاری شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا آپ کے ربّعَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی یا آپ دونوں کی والدہ کے بارے میں وعدہ کیا ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :میں نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّسے سوال ہی نہیں کیا اور میں ضرور قیامت کے دن مقام محمود پر کھڑا ہوں گا۔ انصاری نے عرض کی: مقام محمود کیا ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب تم سب لوگ ننگے پاؤں ننگ بدن اور بغیر ختنہ کے آؤ گے سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکو کپڑے پہنائے جائیں گے،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا: میرےخلیل کو کپڑے پہناؤ تو ان کو دو سفید چادریں پہنائی جائیں گی اور وہ عرش کے سامنے بیٹھ جائیں گے پھر میرے لئے کپڑے لائے جائیں گے اور میں ان کو پہنوں گا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکی سیدھی جانب ایک مقام پر کھڑا ہوں گا جہاں میرے علاوہ اور کوئی کھڑا نہیں ہو گا اور تمام اولین و آخرین مجھ پر رشک کریں گے اورمیری نہر کوثر کو حوض کی طرف کھول دیا جائے گا۔ ایک منافق نے کہا: پانی تو فقط کالی مٹی پر یا کنکریوں پر ہی بہتاہے۔ انصاری نے عرض کی: اس کی مٹی اور کنکر کیا ہیں؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: مٹی مشک ہے اور کنکر موتی ہے۔ منافق نے کہا: میں نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی ؟مٹی اور کنکر پر پانی بہےتو اس میں تو جڑیں بھی نکلی ہوتی ہیں؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہاں اس کی جڑ سونے کی ہے۔ منافق نے کہا: میں نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی؟ جڑ کے ساتھ تو پتے اور پھل بھی ہوتے ہیں؟ انصاری نے عرض کی: کیا اس کے پھل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……زندہ کرنےکی دعاکی تواللہعَزَّ وَجَلَّنےانہیں زندہ فرمادیااوروہ آپ پرایمان لائیں۔صفحہ318پرہے:حافِظ اِبْنِ شاہین، خطیب بغدادی، حافِظ اِبْنِ عَساکِر،علامہ سُہَیْلی،علامہ مُحِب طَبَری،علامہ ناصرالدِّین بن منیر اورعلامہ ابْنِ سیِّدُالناسرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ مُمانعتِ اِستغفار والی روایت اس حدیث سے منسوخ ہے۔شارح احیاء العلوم علامہ سیِّدمحمد بن محمد حسینی مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے والِدَیْن کَرِیمین بعدِوفات زندہ ہوکر آپ پرایمان لائے، اس راویت کو(دوسری سندکےساتھ)علامہ سہیلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے ’’رَوْضُ الْاُنُف‘‘میں اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسےروایت کیااورخطیب بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے ’’اَلسَّابِق وَاللَّاحِق‘‘میں اسے ذکر کیا۔ حافظ علامہ سُیُوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے والدین کریمین کے ایمان کے متعلق سات رسائل تصنیف فرمائے اور اس موضوع کے متعلق میرا (یعنی صاحب اتحاف کا)بھی ایک رِسالہ بنام’’اَلْاِنْتِصَار لِوَالِدَیِ النَّبِیِّ الْمُخْتَار‘‘ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۰/ ۴۳۳ملخصًا)