Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
293 - 475
 رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : مجھے دنیا سے اور دنیا کو مجھ سے کیا کام میں تو دنیا میں اس سوار کی مثل ہوں جس کوگرم دن میں  سایہ دار درخت ملا تو اس نے وہاں آارام کیا اور پھر چھوڑ کر چل دیا۔(1)
سفَرِ معراج:
(5499)...حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:حضور سرور عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے بُراق لایا گیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرتِ سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے پیچھے سوار ہو گئے براق دونوں کو لے کر چلا، جب وہ کسی پہاڑ کی چڑہائی چڑھتا تواس کے پاؤں اوپر ہو جاتے اور جب نیچے اترتا تو اس کے ہاتھ اوپر ہو جاتے،وہ ایک بدبودار زمین سے ہوتے ہوئے خوشبودار زمین پر پہنچے تو حضورنبی اکرم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جبریل! ہم بدبودار زمین سے خوشبودار زمین پر آئے ہیں؟حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: وہ بدبودار جگہ جہنم کی زمین تھی اور یہ جنت کی زمین ہے، حضور نبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں: ہم ایک شخص کے پاس آئے جو نماز پڑھ رہا تھا اس نے کہا:جبریل! یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے کہا: یہ آپ کے بھائی محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔ تو انہوں نے مجھے مرحبا کہااور مجھے برکت کی دعا دی اور  کہا: اپنی امت کے لئے آسانی کا سوال کریں، میں نےپوچھا: جبریل! یہ میرے بھائی کون ہیں؟ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: یہ آپ کے بھائی حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامہیں۔ میں نے کہا: وہی بلند آواز اور غصہ والے؟جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: ان کا ربّ ان کے طرز عمل اور مزاج کی گرمی کو خوب جانتا ہے۔ 
	آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: پھر ہم وہاں سے چلےتو میں نے ایک روشن جگہ دیکھی تو جبریل سے پوچھا: جبریل !یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کہا: یہ آپ کے والد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا درخت ہے،کیا آپ ان سے ملاقات کریں گے؟ میں نے کہا :”ہاں۔“ لہٰذا ہم ان سے ملے تو انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور برکت کی دعا دی ، پھر ہم بیتُ المقدس اس جگہ گئے جہاں انبیا اپنی سواریاں باندھا کرتے تھےپھر میں بیت المقدس میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند احمد، مسند عبد اللّٰہ بن مسعود ، ۲/ ۱۴۶،حدیث:۴۲۰۸