Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
290 - 475
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ فِیْ کَبَدٍ ؕ﴿۴﴾ (پ۳۰،البلد:۴)	
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔
	یعنی ماں کے پیٹ ہی سے مشقت میں رہتا۔ 
(5487)...اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:   عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ ﴿ۙ۱۳﴾ (پ۲۹،القلم:۱۳)	
ترجمۂ کنز الایمان:دُرُشْت خَو اس سب پر طُرَّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا۔
	یہاں’’عُتُل‘‘ سے مراد فاجر اور ’’زَنِیْم‘‘ سے مرادلوگوں کے ساتھ بداخلاقی کرنے والا ہے۔
(5488)...حکْمِ خداوندی ہے:  وَ لَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَیۡمَانِکُمْ (پ۲،البقرة:۲۲۴)	 
 ترجمۂ کنز الایمان: اوراللہکو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنا لو۔
	اس سے مراد وہ شخص ہے جو قسم کھائے کہ صلہ رحمی نہیں کرے گا اور رشتہ داروں سے نیکی نہیں کرے گا اور دو لوگوں میں صلح نہیں کروائے گا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے فرمایا: اسے اس کی قسم ایسے کاموں سے نہ روکے اسے چاہئے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے ۔
(5489)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: جب تم کسی شخص کو دیکھوکہ وہ تکبیرِ اولیٰ میں سُستی کرتا ہے تو اس سے کنارہ کشی  کر لو۔
(5490)...حضرتِ سیِّدُناابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا عقیدہ تھا  کہ بروزِ قیامت لوگ آدھے دن کی مقدار میں حساب سے فارغ ہو جائیں گے اور کہا جائے گا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی ہیں۔
(5491)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نزع کی شدّت کو پسند کرتے تھے تا کہ برے اعمال کا کفارہ ہو جائے۔
(5492)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی اور حضرتِ سیِّدُناحسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا فرماتے ہیں: بندے کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دینی یا دنیاوی معاملے میں اس پر انگلیاں اٹھائی جائیں سوائے اس کے جسے