وَّاجْعَلُوۡا بُیُوۡتَکُمْ قِبْلَۃً وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ (پ۱۱،یونس:۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ کرو اور نماز قائم رکھو۔
یعنی وہ (بنی اسرائیل) خوف زدہ ہوئے تو انھیں حکم دیا گیا کہ اپنے گھر وں میں نماز پڑھیں۔
وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿۹﴾ (پ۱۸،المؤمنون:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔
یعنی فرض نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے۔
وَلَنُذِیۡقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوۡنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ (پ۲۱،السجدة:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے۔
یعنی ان اشیاء کے ذریعے جن سے وہ دنیا میں تکلیف میں مبتلا ہوتے تھے۔
طُوۡبٰی لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾ (پ۱۳،الرعد:۲۹) ترجمۂ کنز الایمان: ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام۔
یعنی وہ بہتر ہو گا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں عطا فرمائے گا۔
حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینےفرمایا:کہاجاتاہے:”اَلْحَمْدُ لِلّٰہ“تمام کلاموں میں دگنا ہے (یعنی یہ ذکر بھی ہے اور شکر بھی)۔
(5484)...اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے:
کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾ (پ۲۶،قٓ:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو۔
اس سے مراد حق سے دور ہونے والا ہے۔
(5485)...اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ ﴿ۚ۴۶﴾ (پ۲۷،الرحمٰن:۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔
یہ اس کے لیے ہے جو دنیا میں ڈرے۔
(5486)...فرمانِ باری تعالیٰ ہے: