چھوٹا کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرمایا کرتے: کتابُ اللہکی تعظیم کرو۔
اعمال کو پوشیدہ رکھو:
(5481)...حضرتِ سیِّدُناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ لوگ( یعنی صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کسی غلام کا نام عبداللہ رکھنے سے کتراتے تھے یہ خوف کرتے ہوئے کہ یوں وہ آزاد ہو جائے گا اور اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ جن نیک اعمال کو انہوں نے پوشیدہ رکھا ہے انہیں ظاہر کر دیں بایں طور کہ کوئی شخص کہے: میں نے فلاں فلاں کام کیا ، میں نے فلاں فلاں چیز بنائی ،وہ کسی کو کوئی چیز دیتے تو اتنا کہنے کو بھی نا پسند کرتے کہ میں نے تجھے دے کر بھلائی کی یا یوں کہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے آزاد ہے ، وہ لوگ خاموشی سے دے دیتے اور کچھ نہ کہتے تھے ۔
حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں :میں جب کوئی ایسی بات دیکھتا ہوں جو مجھے ناپسند ہو تو میں اس کی برائی صرف اس لئے نہیں کرتا کہ کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔
(5482)...حضرتِ سیِّدُناجواب تیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ذکر کے وقت کانپتے تھے،حضرتِ سیّدناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے ان سے کہا: اگرتم اس پر قابو پا سکتے ہو تو مجھے پروا نہیں کہ میں تمہیں کسی گنتی میں شمار نہ کروں اور اگر تم اس پر قابو نہیں پا سکتے تو یقیناً تم نے اپنے سے بہتر کی مخالفت کی۔
سیّدُنا ابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی
سے منقول تفسیری اقوال
(5483)...فرامین باری تعالیٰ اور ان کی تفسیر:
وَیَتْلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ (پ۱۲،ھود:۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور اس پراللہکی طرف سے گواہ آئے۔
(گواہ سے مراد)حضرتِ سیِّدُناجبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامہیں ۔
کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾ (پ۲۶،الذٰریٰت:۱۷) ترجمۂ کنز الایمان: وہ رات میں کم سویا کرتے۔
یہاں یَہۡجَعُوۡنَ کے معنیٰ ہیں :سونے والے۔