Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
287 - 475
(5475)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: بندہ جو بھی مال خرچ کرتا ہے اس پر اسے اجر ملتا ہے سوائے تعمیراتی کام کے، ہاں اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خوشنودی کے لیے مسجد تعمیر کرے تو اس پر اجر ہے۔حضرتِ سیِّدُناابو حمزہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے پوچھا: اگر بندہ بقدرِ ضرورت گھر بنائے تو؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  نہ ثواب ملے گا نہ گناہ۔
صدقے کا جذبہ:
(5476)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: تم سے پہلے وُسْعَت والے لوگوں کے گھروں میں خوشحالی اور لباس میں پیوند کاری ہوتی تھی،جب وہ صدقہ کرنا شروع کرتے تو اپنے گھروں کے دروازے اپنے اوپر بند کر لیتے تھے اگر بچ جاتا تو رشتےداروں پر صدقہ کرتے اگر پھر بھی بچ جاتا تو پڑوسیوں پر صدقہ کرتے اگر پھر بھی بچ جاتا تو یہاں، وہاں صدقہ کر دیتے اور ان کو یہ بات پسند تھی کہ ان کے گھر میں ملاقتیوں اور مانگنے والوں کے لئے کھجوریں موجود رہیں۔
(5477)...حضرتِ سیِّدُناابو منصورمیمون جہنیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نےحضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ اپنے گھروں میں خوشحال ہوتے تھے لیکن پھر بھی ان کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے۔
(5478)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: تم سے پہلے کے لوگ پھٹے ہوئے لباس میں مہربان دلوں والے تھے۔
(5479)...حضرت سیّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: بیت الخلاء میں( دل میں)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ اوپر کو بلند ہوجاتا ہے(1)۔
(5480)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانقرآنِ پاک کو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…پاخانہ کےاندر(یعنی استنجاخانہ میں)اللہ کا ذکر منع ہے کیونکہ وہاں گندگیاں ہیں حضور سوائے اس حالت کے تمام حالات میں ذِکرُ اللہ کرتے تھے۔ (مراۃ المناجیح،۱/۲۶۸ ملتقطاً)