Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
286 - 475
 کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ ہو ۔
(5470)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے حُلْوان کے امیر کو کھیت میں چلتے دیکھا تو فرمایا: راستے میں ظلم کرنا دین میں ظلم کرنے سے بہتر ہے۔
قیامت کی نشانیاں:
(5471)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: ایک رات ایسی آئے گی جس میں لوگوں کے سینوں سے قرآنِ پاک اٹھا لیا جائے گا،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پاکیزہ ہوا بھیجے گا جس سے تمام مؤمنین انتقال کر جائیں گے پھر ایسے لوگ رہ جائیں گے جو نہ سچی بات کریں گے نہ اس کو عام کریں گے، زنا ایسے کریں گے جیسے گدھے جفتی کرتے ہیں۔حضرتِ سیِّدُناابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمانے تو اسے بہت طویل بیان کیا اور یہ ان صحابہ میں سے تھے جو قیامت کے معاملے کو بہت طویل ذکر کرتے تھے، حضرتِ سیِّدُناابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا: وہ لوگ 120سال تک اسی حالت میں رہیں گے۔
(5472)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجب جمع ہوتے تو اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ ان میں سے کوئی شخص اپنی بہترین حدیث سنائے۔
(5473)...حضرتِ سیِّدُنااعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مجھے ایک شخص نے مال دیا اور اس میں سے (اس وقت کے)سو روپے نکال لیےکہ زعفران لے گا۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس قدر دنیا کے طلبگار نہیں تھے۔
اچھی نیت کا اثر:
(5474)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: ایک شخص ایسی گفتگو کرتا ہے جس پر غصہ آتا ہے لیکن اس کی نیت بھلائی کی ہوتی ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں معافی ڈال دیتا ہے حتّٰی کہ لوگ کہتے ہیں: اس کا کلام بھلائی کے لیے ہی ہے اور ایک شخص اچھا کلام کرتا ہےلیکن اس سے بھلائی کا ارادہ نہیں کرتا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ لوگوں کے دلوں میں ایک بات ڈال دیتا ہے حتّٰی کہ لوگ کہتے ہیں: اس نے اپنے کلام سے بھلائی کا ارادہ نہیں کیا۔