Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
284 - 475
(5456)...حضرت سیّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اگر مجھےکہا جائے کہ ان میں سے کسی نے اپنے ناخن پر مسح کیا ہے تو میں اس کی تصدیق نہیں کروں گا۔
(5457)...حضرتِ سیِّدُناحارث عکلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکا ہاتھ پکڑے ہوئے ایک شخص کے بارے میں بات کر رہا تھا کہ میں نے اس کا کوئی عیب ذکر کر دیا جب ہم مسجدکےدروازےپرپہنچےتوآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےمیراہاتھ چھوڑدیااورفرمایا:جاؤوضوکرو۔ اسلاف ایسی باتوں کو بیہودہ شمار کرتے تھے۔(1)
(5458)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: جھوٹ روزے دار کا روزہ توڑ دیتا ہے۔(2)
اسلاف کی جنازوں میں شرکت:
(5459)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: جب  صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کسی جنازے میں حاضر ہوتے تو چند دنوں تک غمزدہ رہتے اور یہ غم ان میں واضح طور پر دیکھا جاتا۔
(5460)...حضرتِ سیِّدُنامحمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: غالباًحضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرمایا کرتے تھے: جب ہم کسی جنازے میں جاتے یا کسی میت کے بارے میں سنتےتو ہم چند دن تک اس کے غم میں مبتلا رہتےکیونکہ  ہم جانتے ہیں کہ اسے وہ معاملہ درپیش ہوا ہے جو اسے جنت کی طرف لے جائے گا یا پھر دوزخ کی طرف جبکہ تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے جنازوں میں دنیا کی باتیں کرتے ہو۔
(5461)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے فرمایا: اگر بندہ اپنے گناہوں کی طرح اپنی عبادت کو چھپائے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس  کی عبادت کو ظاہر فر دے گا۔ 
عابد کاخوفِ خدا:
(5462)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: ایک عابد ایک  عورت کے پاس تھا،عابد 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عرض : وُضو کی حالت میں جھوٹ بولا یاغیبت کی یافُحش بکا تو وُضو میں کوئی خرابی تو نہیں آتی؟
ارشاد : مُسْتَحب یہ ہے کہ پھر وُضو کرلے اگر نماز اسی وُضوسے پڑھ لی خِلَافِ مُسْتَحب کیا۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۳۸۱)
2…جھوٹ،چغلی، غیبت، گالی دینا، بیہودہ بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے (روزہ ٹوٹتا نہیں)۔(بہارِ شریعت، حصہ ۵،  ۱/۹۹۶)