Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
282 - 475
 (یعنی علْمِ نجوم)سیکھنے کو برا نہیں جانتے تھے(1)۔
(5446)...حضرت  سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: جو شخص اس لئے مجلس لگائے کہ اس کی مجلس میں بیٹھا جائے تو اس کی مجلس میں نہ بیٹھو۔
(5447)...حضرتِ سیِّدُناسفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکے والد فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نےتعجب کرتے ہوئے دو مرتبہ فرمایا:آپ کو بھی میری حاجت ہے!!!۔ 
(5448)...حضرتِ سیِّدُناابو حُصَیْنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں حضرتِ سیِّدُناابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےکسی بارےمیں مسئلہ پوچھنے آیاتوآپ نے فرمایا:تمہیں میرے علاوہ اور کوئی نہ ملا جس سے مسئلہ پوچھتے۔
(5449)...حضرتِ سیِّدُنازبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کوئی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میرے علاوہ تمہیں اپنے گھر میں کوئی نہیں ملا جس سے یہ مسئلہ پوچھ لیتے۔
بلا ضرورت کلام نہ کرتے:
(5450)...حضرتِ سیِّدُنااَشْعَث بن سَوَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: میں عصر سے مغرب تک حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے پاس بیٹھا رہا مگرانہوں نے کوئی بات نہ کی۔ جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہواتو میں نےحضرت حَکم اور حمادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکویہ کہتے سنا: حضرت ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا۔انہوں نےاتناہی کہاتھاکہ میں نے انہیں اپنا حضرتِ سیِّدُناابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس بیٹھنا اور ان کا کلام نہ کرنا بتایا تو انہوں نے کہا: سن لو! وہ اس وقت تک کلام نہیں کرتے تھے جب تک ان سے سوال نہ کیا جاتا۔
(5451)...حضرتِ سیِّدُنااعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی ایسا کہنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ ’’نماز کا وقت ہو گیا ہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… علم نجوم فقط اس قدر سیکھنا کہ جس سے جہت قبلہ، اوقات اور راستوں کی پہچان حاصل ہو جائز ہےاللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوۡمَ لِتَہۡتَدُوۡا بِہَا فِیۡ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ (پ۷،الانعام:۹۷)ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں۔ (مرقاة المفاتیح، ۸/۳۶۵)