نے فرمایا :میں ملک الموت کا انتظار کر رہا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ وہ مجھے جنت کی خبر دیتے ہیں یا جہنم کی۔
(5437)...حضرتِ سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی علمی مذاکرے میں بیٹھتے تھے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سب سے زیادہ خاموش اور فضیلت والےتھے۔
(5438)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جمع ہو کر علم، خیراور فقہ کے مذاکرے کرتےاور پھر جدا ہوتے تو ایک دوسرے سے معافی تلافی کی نوبت نہ آتی۔
(5439)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کہا کرتے تھے: اندھیری رات میں مسجد کی طرف جانا جنت کو واجب کرتا ہے۔
(5440)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرمایا کرتے اور یہ امید رکھا کرتے کہ جو مسلماناللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ہاتھ خونِ ناحق سے آلودہ نہ ہوں تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے درگزرفرمائے گا اورخونِ ناحق کے سوا باقی گناہوں کو معاف فرما دے گا۔
استاد کا انتخاب:
(5441)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیجب کسی شخص سے علم حاصل کرنے آتے تو اس کی نماز اور عادات واطوار کو دیکھتے پھر علم حاصل کرتے۔
(5442)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: میں جب کسی سے حدیث لیتا ہوں تو پہلے اس کے راویوں کو دیکھتا ہوں پھر حدیث لے لیتا ہوں اور باقی سب کو چھوڑ دیتا ہوں۔
(5443)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی اطراف الحدیث(حدیث کے اجزاء) کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہ جانتے تھے۔
(5444)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: روایت رائے کے بغیراور رائے روایت کے بغیر درست نہیں ہوتی۔
علْمِ نجوم:
(5445)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیراہنمائی حاصل کرنےکی خاطرچاندستاروں کاعلم