گئی تو میں حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکے پاس آیا اور عرض کی: اے ابو عمران! آپ دیکھ رہے ہیں کوفہ میں کتنے اختلافات ہو چکے ہیں؟ تو آپ نے افسوس کرتے ہوئے فرمایا: وہ لوگ باریکیوں میں پڑ گئےاور اپنے پاس سے دین میں ایسی باتیں ایجاد کر لیں جونہ کتابُ اللہ میں ہیں اور نہ ہی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت سے ہیں۔حتّٰی کہ کہتے ہیں: یہی حق ہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے۔یقیناً انہوں نے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دین کو چھوڑ دیا لہٰذا تم ان سے دور رہو اور ان کو خود سے دور رکھو۔
عاجزی وانکساری:
(5426)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: میری خواہش ہے کہ میں گونگا ہوتا اگر مجھے کلام سے بچنے کا کوئی راستہ ملتا تو میں کلام نہ کرتا اور جس زمانے میں مجھ جیسا بھی فقیہ ہو جائے یقیناً وہ برا زمانہ ہے۔
(5427)...حضرتِ سیِّدُنامیمون بن ابوحمزہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں: حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے مجھ سے فرمایا: میں کلام کرتا ہوں اگر میں بچنے کی راہ پاتا توکلام نہ کرتا، جس زمانے میں مجھ جیسا بھی کوفہ کا فقیہ ہو جائے یقیناً وہ برا زمانہ ہے۔
(5428)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں: اگر میں اہل قبلہ میں سے کسی کا خون حلال سمجھتا توضرور وہ قوم خشبیہ ہوتی(1)۔
(5429)...حضرت سیّدُنا امام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کےسامنےقوم مرجئہ کاذکرہواتوآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا: خدا کی قسم! یہ میرے نزدیک اہل کتاب سے بھی زیادہ بری قوم ہے(مرجئہ گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے)۔
افضلیتِ عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ:
(5430)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے سامنے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعثمان غنی اور امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کاذکرہواتوایک شخص نےامیرالمؤمنین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… قوم خَشَبِیَّہ،جَہْمِیَّہ کی ایک شاخ ہے اور جَہْمِیَّہخوارج تھے،ایک قول یہ ہےکہ خشبیہمختار ثقفی کے ساتھی تھے۔
(تاج العروس،۱/۴۴۵)