(5406)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو خلیفہ مختار بن ابو عبیدنے بلوایا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاپنے چہرے پر تیل لگا کر اور دوا پی کراپنے آپ کو بیمار ظاہر کیااور اس کی طرف نہ گئے تو خلیفہ نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو چھوڑ دیا۔
سب سے بڑے فقیہ:
(5407)...حضرتِ سیِّدُناابوبکر عبداللہ بن شعیب بن حَبْحاب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکا وصال حجاج کے دورِ امارت میں ہوا، سات یا نو افراد نے رات ہی میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی اور دفنا دیا ان میں سے ایک میں بھی تھا،صبح جب میں حضرتِ سیِّدُناشعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا:تم نے رات حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو دفن کر دیا؟ میں نےعرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تم نے سب سے بڑے فقیہ کو دفن کیا ہے۔ میں نےعرض کی:حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے بھی بڑے؟حضرت سیِّدُناامام شعبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا: ہاں، ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بلکہ اہل بصرہ، اہل کوفہ، اہل شام اور اہل حجاز سے بھی بڑے فقیہ تھے۔
علم میں بھی بڑے تھے:
(5408)...حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن اَشْعَث بن سَوَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو بتایا کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا وصال ہو گیا ہے تو آپ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَيْہِ رَاجِعُونَ پڑھا اور فرمایا: وہ عمر میں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ علم میں بھی بڑے تھے۔
(5410)...حضرتِ سیِّدُنااسماعیل بن ابو خالدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: حضرتِ سیِّدُناامام شعبی، حضرتِ سیِّدُناابوالضُّحٰی، حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی اور ہمارے دیگر اصحاب عَلَیْہِمُ الرَّحْمَہ مسجد میں جمع ہوکر ایک دوسرے کو احادیث سناتے تھے۔جب ان کے پاس کوئی ایسا مسئلہ آجاتا جس کا ان کے پاس کوئی حل نہ ہوتا تو سب کی نظروں کا مرکزحضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ہوتے تھے۔
(5411)...حضرتِ سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں نے جب بھی حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے سامنے کسی حدیث کا ذکر کیا تو ان کے پاس سے اس کے متعلق مزید علم پایا۔