Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
275 - 475
حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن یزیدنَخْعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِیْ
	کامل علم رکھنے والے متقی اور ماہرفقیہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن یزید نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی تابعی بزرگ  ہیں، آپ تمام علوم کے ماہر اورتکبر کرنے والوں کو نیچا دکھانے والے اور عاجزی کرنے والوں کے لیے نرم خو تھے۔
	منقول ہے:عاجزی و انکساری  کرنے والوں کو اہمیت دینے اور غرور وتکبر کرنے والوں کو نیچا دکھانے کا نام تصوف ہے۔
جتنا سوال اتنا جواب:
(5402)... حضرتِ سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی شہرت  سے بچتے تھے اور ستون کی طرف نہ بیٹھتے تھے اور جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تواتنا ہی جواب دیتے جتنا پوچھا جاتا۔  ایک چیز کے متعلق ان سے مسئلہ پوچھا گیا تو میں نے کہا: کیا اس مسئلہ میں یہ یہ بات  بھی نہیں ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا گیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حدیث پرکھنے میں بھی ماہر تھےلہٰذا جب میں اپنے کچھ دوستوں سے کوئی حدیث سنتا تو حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی  کے سامنے پیش کر دیتا تھا۔
(5403)...حضرتِ سیِّدُنازبیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں نے جب بھی حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کوئی مسئلہ پوچھا تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے۔
(5404)...حضرتِ سیِّدُنامنصوررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے جب بھی حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کوئی مسئلہ پوچھاتو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جواب میں فرماتے: ہو سکتا ہے ایسے ہی ہو۔
ہر وقت تلاوتِ قرآن:
(5405)...حضرتِ سیِّدُناامام اعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کے پاس تھا اورآپ قرآنِ پاک کی تلاوت کررہے تھےکہ ایک شخص نے آنے کی اجازت چاہی توآپ نے قرآنِ پاک کو بند کیا اور فرمایا:اس کو معلوم نہیں ہے کہ میں ہر وقت قرآنِ پاک کی تلاوت کرتا ہوں۔