Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
271 - 475
اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہےاور اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کا نہ نفل قبول کرے گا نہ فرض۔ مزید یہ کہ”جو اپنے مولیٰ کے علاوہ  کسی اور کی وِلا اختیار کرے(1)تو اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے نہ نفل قبول کرے گا نہ فرض۔“(2)
(8538)...حضرتِ سیِّدُناابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتےہیں:غروبِ آفتاب کےوقت ہم مسجدمیں بارگاہِ رسالت میں بیٹھے تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ابو ذر!کیا تم جانتے ہو سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟“میں نے عرض کی:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”سورج چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت دے دی جاتی ہے اور قریب ہے کہ سورج اجازت طلب کرے اور اس کو اجازت نہ ملےیہاں تک کہ اس کی سفارش کی جائے اور جب سورج کوطویل عرصہ گزر جائے گا تو اس سے کہاجائے گا:”اپنی جگہ سے طلوع ہو۔“اور یہ ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان ہے:
وَ الشَّمْسُ تَجْرِیۡ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا ؕ ذٰلِکَ تَقْدِیۡرُ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾ (پ۲۳،یٰسٓ:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔
	ایک دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ’’پس سورج مغرب سے طلوع ہو گا، یہ وہی وقت ہو گا جس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
  ……و بدعتی سے عقیدہ کی بدعتیں و بدعتی مراد ہیں جیسے رِفض وخَوَارِج، وہابیت وغیرہ نہ کہ عملی بدعتیں، کہ وہ تو کبھی فرض واجب بھی ہوتی ہیں، جیسے کتبِ حدیث کا جمع کرنا، یا قرآن کریم کے تیس پارے اور علم فقہ وغیرہ، اگرچہ ہر جگہ  ہی بدعتیں بری ہیں مگر مدینہ پاک میں زیادہ بری ۔
…ولا دو قسم کی ہے ولاء موالات اور ولاء عتاقہ ولاء موالات قوموں کے معائدے کو کہتے ہیں کہ چند قومیں کسی معائدے میں شریک ہو کر ایک دوسرے کے معاوِن ومددگار بن جائیں،ان میں سے ہر ایک بغیر دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیے کسی اور قوم سے معاہدہ نہ کرے کہ اس میں عہدشکنی ہے جو حرام ہے یا یہ مطلب ہے کہ آزاد کردہ غلام اپنے آزاد کرنے والے مولیٰ کا عتاقہ ہے کہ اسے اس غلام کی میراث کا حق پہنچتا ہے،یہ غلام دوسرے کو اپنا مولیٰ نہ بتائے جس کا معتق ہے اسی کا رہے یا یہ مطلب ہے کہ کوئی مسلمان بھائی،بھائی مسلمان کو ستانے کے لیے کافر سے دوستی نہ کرے ورنہ لعنت کا مستحق ہوگا۔غرضیکہ اس جملہ کی تین شرحیں ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/ ۲۰۹)
2…بخاری،کتاب فضائل المدینة،باب حر م المدینة،۱/ ۶۱۶، حدیث:۱۸۷۰،بتغیر قلیل