ہی دوبارہ بصرہ جانے کا ارادہ کیا کیونکہ میں نے حضرتِ سیِّدُناابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے سنا ہے : قیامت کے دن ایک درہم والے کا حساب دو درہم والے کے مقابلے میں ہلکا ہو گا۔
موت کا خوف:
حضرتِ سیِّدُناابراہیم تیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیبیان کرتے ہیں کہ میرے والدحضرتِ سیِّدُنایزید بن شریک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں لوگوں کی طرح اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوں اور اچانک موت کا ذکر ہو جائے تو یہ کام (یعنی ہم بستری کرنا) مجھ پر آسمان کو چھونے سے بھی زیادہ بھاری ہو جائے گا۔
دنیا سے بے رغبتی:
(5359)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے والدحضرتِ سیِّدُنایزید بن شریکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ بصرہ گے تو انہوں نے چار ہزار درہم کا ایک غلام خریداپھر اسے بیچا تو چار ہزار درہم کا نفع ہوا۔ میں نے عرض کی:اباجان!اگر آپ واپس بصرہ جا کر اسی طرح کی خرید وفروخت کریں تو اس میں فائدہ ہو گا۔والد ماجد نے فرمایا:بیٹا! تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ خدا کی قسم! مجھے اس سے کوئی خوشی نہیں ہوئی اور نہ ہی میرا دل یہ چاہتا ہے کہ مجھے اس جیسا اور بھی نفع ہو۔
(5360)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں: میرے والد جب چادر اوڑھتےتو وہ نیچے کی جانب پنڈلیوں تک اور اوپر کی جانب سینے تک ہوتی،میں نے ایک بار عرض کی:اباجان! آپ ایسی چادر لے لیجئے جوآپ کی اس چادر سے بڑی ہو،تو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:بیٹا!تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ خدا کی قسم! میری حالت تو یہ ہے کہ میں جو بھی لقمہ کھاتا ہوں وہ تمام لوگوں سے بڑھ کرمجھے ناپسند ہے۔
نفس کا محاسبہ:
(5361)...حضرتِ سیِّدُناابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے فرمایا: میں نے اپنےآپ کو جہنم پر پیش کیا کہ سخت بھڑکتی آگ میں مجھے طوق پہنادیاگیاہے، کھانے کو کانٹے دارتھوہڑ اور پینے کو زَمْہَریر(کپکپا دینے والا ٹھنڈا پانی) دیاجا رہا ہے۔میں نے اپنے نفس سے کہا: اے میرے نفس! تو کیا چاہتا ہے؟ نفس نےجواب دیا: دنیا کی طرف لوٹ جاؤں اور ایسے عمل کروں جن کے ذریعےاس عذاب سے نجات ملے۔ پھر میں نےخود کو جنت