فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ ۚ وَمَنْ عَصَانِیۡ فَاِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۶﴾ (پ۱۳،ابراھیم:۳۶)
ترجمۂ کنز الایمان: تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
اور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکو گواہ بناتا ہوں کہ لوگوں کے دل ضرور ربّ تعالیٰ کی گواہی دیں گے حتّٰی کہ نرم سے نرم تر ہو جائیں گےبے شک تم میں بھی کثیر اہل و عیال والے ہیں لہٰذا قیدیوں کے لئے چھٹکارا دو ہی صورتوں میں ہے یا تو فدیہ دیں یا پھر قتل کر دیئے جائیں۔حضرتِ سیِّدُناعبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: میں نے عرض کی: سہیل بن بیضاء کے علاوہ کیونکہ میں نے ان کو اسلام کا ذکر کرتے سنا تھا۔حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو گئے اور میں آسمان کی طرف دیکھنے لگا کہ کب مجھ پر پتھر برستے ہیں اس لئے کہ میں نے حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اپنا قول مقدَّم کیا،حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: سہیل بن بیضاء کے علاوہ۔(1)
ابو جہل کا قتل:
(5351)....حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا: میں نے بدر کے دن حضورسیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضرہوکرعرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے ابوجہل کوقتل کردیاہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اس کی قسم جس کےسواکوئی معبودنہیں! تم نے اسے قتل کر دیا ہے؟ میں نے عرض کی: اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں نے اسے قتل کر دیاہے۔پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوشی میں اضافہ ہو گیا اور ارشاد فرمایا: چلو اس کی طرف۔ چنانچہ ہم اس کی طرف چل پڑےیہاں تک کہ ابوجہل کے سر پر آ کھٹرے ہوئے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے تجھے ذلیل کیا،(پھر فرمایا) یہ اس امت کا فرعون ہے، اس کو قلیب(کنوئیں)کی طرف لے چلو۔حضرتِ سیِّدُناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں نےابوجہل کو اپنی تلوار سے زخمی کیا تھااور اسے صاف نہیں کیا تھا، پھر میں نے اُسی کی تلوار لے کر اس کام تمام کر دیاتھالہٰذا نبی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسند احمد بن حنبل،مسند عبداللّٰہ بن مسعود،۲/ ۲۴،حدیث: ۳۶۳۲
مسند ابی یعلٰی،مسند عبداللّٰہ بن مسعود، ۴/ ۴۱۱،حدیث:۵۱۶۵