Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
261 - 475
نکلنے پر مجبورکیا اور آپ کو جھٹلایا اس لئے ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ حضرتعبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یَارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ایسی وادی میں ہیں جہاں لکڑیوں کی کثرت ہے لہٰذا آگ جلا کر ان سب کو اس میں ڈال دیا جائے۔ حضرتِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ( جو کہ ابھی تک اسلام نہ لائے تھے) حضرتعبداللہ بن رواحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہنے لگے:اللہ تیری رشتہ داری قطع کرے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: یَارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آپ کی قوم ہے آپ کا خاندان ہے،آپ کے اہل ہیں ان سے درگزرفرمائیں عنقریب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کے سبب ان لوگوں کو آگ سے بچائے گا۔حضرتِ سیِّدُناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:پھررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنےحجرۂ مبارکہ میں تشریف لے گئےتوکوئی کہنے لگا: حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بات ٹھیک ہے اور کسی نے کہا: حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کامشورہ ٹھیک ہے۔اتنےمیں پیارےآقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہرتشریف لائے اورارشادفرمایا: تمہارا ان دونوں کے بارے میں کیا کہنا ہے؟ کیونکہ ان کی مثال اِن کے اُن بھائیوں کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے۔حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:
رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾ (پ۲۹،نوح:۲۶)	
ترجمۂ کنز الایمان: اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔
	اور حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نےیوں دعاکی:    رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوَالِہِمْ   (پ۱۱،یونس:۸۸)
 ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ان کے مال برباد کر دے۔
	اور حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نےیوں عرض کی:
اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾ (پ۷،المآئدة:۱۱۸)	
ترجمۂ کنز الایمان: اگرتو انہیں عذاب کرے تووہ  تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا۔
	اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی صدا یہ تھی: