سیِّدُناابو عبیدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
چار نمازیں ایک ساتھ:
(5348)...حضرت سیِّدُناعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا:مشرکوں نےہمیں ظہر،عصر،مغرب اور عشا کی نمازیں نہ پڑھنے دیں(یعنی ہم جہاد میں مصروف رہے)تو حضور نبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اذان و اقامت کا حکم دیا۔چنانچہ انہوں نے اذان اور اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی پھر اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی پھر اقامت کہی تو ہم نے مغرب پڑھی پھر اقامت کہی تو ہم نے عشا پڑھی پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: زمین پر تمہارے سوا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔(1)
سانپ بچ گیا:
(5349)...حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا: یومِ عرفہ کی رات ہم رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مسجدِخَیْف میں تھے کہ ایک سانپ نکل آیا تو مُعَلِّمِ کائنات،شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے مارنے کا حکم دیا، سانپ پتھر کے پیچھے سوراخ میں داخل ہو گیا،ہم کھجور کی شاخ میں آگ لگا کر لائے اور اس جگہ سے پتھر کو ہٹایا مگر سانپ کو نہ پایا،تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا یعنی وہ تمہارے وار سے بچ گیا جس طرح تم اس کے شرسے بچ گئے۔(2)
جنگ بدر کے قیدی:
(5350)...حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: بدر کے قیدی جب سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے لائے گئے تو آپ نے صحابَۂ کرام سے ارشاد فرمایا: تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:انہوں نے آپ کو مَکۂ مکرمہ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… نسائی ،کتاب المواقیت ،باب کیف یقضی الفائت من الصلٰوة،ص ۱۱۰۸،حدیث: ۶۱۹ ،بتغیر قلیل
2…مسنداحمد،مسند عبداللّٰہ بن مسعود،۲/ ۲۹ ،حدیث:۳۶۴۹ ،بتغیر قلیل